خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 42
خطبات مسرور جلد سوم 42 خطبہ جمعہ 28 جنوری 2005ء پھر مغرب کے نام نہاد امن کے علمبردار، امن کے نام پر ملکوں کی شہری آبادیوں کو تہس نہیں کر رہے ہیں ، تباہ و برباد کر رہے ہیں۔بجائے اس کے کہ اپنے پیسے سے غریب لوگوں کی مدد کریں، ان کی بھوک مٹائیں، اس کی بجائے اس پیسے سے تباہی پھیلا رہے ہیں۔تو یہ سب کچھ چاہے وہ قدرتی آفات ہوں یا اللہ تعالیٰ نے دلوں میں سختی پیدا کر دی ہو جس سے انسان اپنی اقدار ہی بھول گیا ہے اور ایک دوسرے کو جانوروں کی طرح نوچنے اور بھنبھوڑنے لگ گیا ہے۔یہ سب اس لئے ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کو بھول گیا ہے اور زمانے کے امام کو پہچاننے سے انکاری ہے یا خدا کے خوف کی جگہ بندوں کے خوف نے لے لی ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے کہ مجھ سے اور صرف مجھ سے ڈرو۔انسان کو اپنا بندہ بنانے کے لئے ، اس کی اصلاح کے لئے ، خدا تعالیٰ ہر زمانے میں اپنے کسی خاص بندے کو مبعوث فرماتا ہے اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اسی لئے مبعوث فرمایا ہے۔یہ دنیا جو خدا کو بھلا بیٹھی ہے اس کو خدا کی طرف لائیں۔اور آج یہی پیغام لے کر ہر احمدی کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ایک واحد خدا کی پہچان کروائے۔پس اس لحاظ سے ہر احمدی کو اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہئے۔اپنے اندر بھی پاک تبدیلیاں پیدا کریں، اپنے آپ کو بھی تقویٰ کے اعلیٰ معیار تک پہنچائیں اور دنیا کو بھی اس حسین تعلیم سے آگاہ کریں۔اس انتظار میں نہ رہیں، جہاں جہاں اور جن جن ملکوں میں بھی احمدی ہیں ، کہ خلیفہ وقت کا دورہ ہوگا تو اس کے بعد ہی ہم نے اپنے اندر تیزی پیدا کرنی ہے۔یہ وقت ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ آسمان پر بھی جوش ہے۔پس آگے بڑھیں اور دنیا میں خدا کا پیغام پہنچانے کے لئے اللہ کے مددگار بنیں۔اور ان برکتوں اور فضلوں سے حصہ لیں جو خدا نے اپنا پیغام پہنچانے والوں کے لئے رکھی ہیں۔یہ کام تو ہونا ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلوں کا وارث بنانے کے لئے یہ موقع دیا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا دنیا کی تقریباً سب جماعتوں کی خواہش ہے کہ میرے دورے ہوں تا کہ ان میں تیزی پیدا ہو۔وہ تو ہوں گے انشاء اللہ اور ہو بھی رہے ہیں لیکن اپنے اس کام کو بھی ہر جماعت کو جاری رکھنا چاہئے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان دوروں کی وجہ سے جماعت کو جو خلافت سے