خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 481 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 481

خطبات مسرور جلد سوم 481 خطبه جمعه 12 اگست 2005 ء آپ کی یہ عاجزی اور سادگی ہی تھی جس کی وجہ سے ناواقف نئے آنے والے لوگ جب آتے تھے اور آپ مجلس میں بیٹھے ہوتے تھے تو پہچان نہیں سکتے تھے کیونکہ سادہ اور بے تکلف مجلس ہوا کرتی تھی اور نیا آنے والا شناخت نہیں کر سکتا تھا۔چنانچہ ایسی ہی ایک مجلس کا روایت میں یوں ذکر آتا ہے کہ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم شروع میں ہجرت فرما کر مدینہ پہنچے تو وہ دوپہر کا وقت تھا۔دھوپ شدت کی تھی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے سائے میں تشریف فرما ہوئے۔لوگ جوق در جوق آنے لگے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے جو آپ کے ہم عمر ہی تھے۔اہل مدینہ بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سے اکثر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے قبل نہ دیکھا تھا۔لوگ آپ کی طرف آنے لگے۔حضرت ابو بکر کی وجہ سے آپ کو نہ پہچانتے تھے۔آپ اس قدر سادگی اور عاجزی کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ سب لوگ ابو بکر کو رسول اللہ سمجھنے لگے۔جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ محسوس کیا تو ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی چادر سے سایہ کرنے لگے جس سے لوگوں نے جان لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں۔(السيرة النبوية لابن هشام تاريخ الهجرة - قدومه قباء) | پھر ایک اور روایت میں آتا ہے کہ شریک بن عبداللہ بن ابو نمر روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک بار ہم مسجد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔اتنے میں ایک شخص اونٹ پر سوار آیا اور اونٹ کو مسجد میں بٹھا کر باندھ دیا۔پھر پوچھنے لگا تم میں سے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کون ہیں ؟۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں میں تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ہم نے کہا یہ گورے رنگ کے شخص جو تکیہ لگائے بیٹھے ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔تب وہ شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا : کیا آپ عبدالمطلب کے بیٹے ہیں؟۔آپ نے اس سے کہا ہاں میں ہی ہوں۔وہ کہنے لگا ( آگے پھر سوال شروع ہو گئے ) کہ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں اور سختی سے پوچھوں گا کہ آپ اپنے دل میں برا نہ مانے گا۔آپ نے فرمایا کہ جس طرح جی چاہے پوچھو۔تب اس نے کہا، آپ کی سادگی کا ذکر