خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 35 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 35

خطبات مسرور جلد سوم 35 خطبہ جمعہ 14 جنوری 2005ء اس مسجد کے لئے دینا چاہے گا تو دے دیں اس میں روک کوئی نہیں ہے۔لیکن تمام دنیا کی جماعت کو یا احمدیوں کو میں عمومی تحریک نہیں کر رہا کہ اس کے لئے ضرور دیں۔انشاء اللہ تعالیٰ یہ مسجد بن جائے گی چاہے مرکزی طور پر فنڈ مہیا کر کے بنائی جائے یا جس طرح بھی بنائی جائے اور بعد میں پھر سپین والے اس قرض کو واپس بھی کر دیں گے جس حد تک قرض ہے۔تو بہر حال یہ کام جلد شروع ہو جانا چاہئے اور اس میں اب مزید انتظار نہیں کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق دے۔کیونکہ اب تک جو سرسری اندازہ لگایا ہے اس کے مطابق دو تین سونمازیوں کی گنجائش کی مسجد انشاء اللہ خیال ہے کہ 5-6لاکھ یورو (Euro) میں بن جائے گی۔یہاں بھی اور جگہوں پر بھی مسجد بنانے کا عزم کیا ہے تو پھر بنائیں انشاء اللہ شروع کریں یہ کام۔ارادہ جب کر لیا ہے تو وعدے کریں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس میں برکت ڈالے گا۔جلسے کے دنوں میں جو وزارت انصاف کے شاید ڈائریکٹر جو آئے ہوئے تھے بڑے پڑھے لکھے اور کھلے دل کے آدمی ہیں۔مجھے کہنے لگے کہ جماعت کے وسائل کم ہیں۔وہ تو دنیا داری کی نظر سے دیکھتے ہیں۔کہنے لگے کہ حکومت مسلمان تنظیموں کو بعض سہولتیں دیتی ہے۔اب قرطبہ میں بھی انہوں نے مسجد بنائی ہے۔تو اس طرح اور سہولتیں ہیں لیکن آپ کو (جماعت احمدیہ کو ) وہ مسلمان اپنے میں شامل نہیں کرنا چاہتے۔اس لئے جو حکومت کا مدد دینے کا طریق کار ہے اس سے آپ کو حصہ نہیں ملتا۔کیا ایسا نہیں ہو سکتا آپ ان مسلمانوں کی کچھ باتیں مان جائیں اور حکومت سے مالی فائدہ اٹھا لیا کریں۔باقی ان کی باتوں میں شامل نہ ہوں۔تو میں نے ان کو جواب دیا تھا کہ اگر باقی مسلمان تنظیمیں راضی بھی ہو جائیں تو پھر بھی ہم یہ نہیں کر سکتے۔کیونکہ کل کو پھر آپ نے ہی یہ کہنا ہے کہ تمہارا امن پسندی کا دعوئی یونہی ہے، اندر سے تم بھی ان لوگوں کے ساتھ شامل ہو جو شدت پسند ہیں۔اور دوسرے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کر دیئے ہیں کہ ہم باقی مسلمانوں سے الگ ہو کر جو ان کے عمل ہیں ، جو اسلامی تعلیم کے خلاف ہیں، اس سے بیچ کر صحیح اسلامی تعلیم کے مطابق اپنی پہچان کر سکیں۔اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان مہیا فرما دیئے ہیں۔پیشگوئی پوری ہو چکی ہے کہ ہماری علیحدہ ایک پہچان ہے تو چند پیسوں