خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 406 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 406

خطبات مسرور جلد سوم 406 خطبہ جمعہ 8 جولائی 2005ء یہ پلاٹ میرا خیال ہے چار پانچ ایکڑ کے ہیں۔باقی جگہ کھلی جگہوں کے پلاٹ ہیں۔ان بڑے پلاٹوں کا یہ فائدہ ہے کہ بہت ساری چیزوں کے لئے ہمیں جو ضرورت پڑتی ہے، جماعت کے فنکشنز کے لئے وہ ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔پھر کینیڈا کی جماعت نے دوسنٹرز خریدے ہیں جہاں بڑی اچھی مضبوط عمارتیں بنی ہوئی ہیں۔بلکہ ایک جگہ Darham میں تو ایک چھوٹا سا قلعہ نما گھر بنا ہوا ہے۔کسی ہالینڈ کے باشندے نے بنایا تھا۔اور اس کے بعد اس نے دے دیا۔بڑا مضبوط بنا ہوا ہے اور اس کے ساتھ رقبہ بھی تقریباً سترہ اٹھارہ ایکڑ ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اچھی مضبوط عمارت ہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی جماعت کے پیسے کو، قربانی کرنے والوں کے پیسے کو ، اس طرح برکت دی ہے اور ان سے اس طرح استعمال کرواتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔یہ قلعہ نما گھر جو ہے،118 یکٹر زمین کے ساتھ یہ تقریباً ایک ملین ڈالر کا خریدا گیا ہے اور اس کا خرچ بھی صرف ایک آدمی نے دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ایسے مخلص دوست دیئے ہیں جو خرچ برداشت کرتے ہیں۔اور جماعت کو بڑے ستے داموں یہ زمین مل گئی ہے جبکہ اس کی اب قیمت تقریباً اس سے ڈیوڑھی ہو چکی ہے۔تو ان سب خرچ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ جزا دے اور ان کے اموال ونفوس میں برکت ڈالے۔جیسا کہ میں نے کہا، یہ عمارت بھی جو خریدی گئی ہے یہ اتفاق سے قبلہ رخ بنی ہوئی عمارت ہے۔اس لئے مسجد کے طور پر بھی فوراً اس کا استعمال شروع ہو چکا ہے۔اور مزید تھوڑی سی تبدیلیاں ہونی ہیں۔اس میں علاوہ کمروں کے دو بڑے بڑے ہال ہیں اور ایک ہال تو خیر سوئمنگ پول کا ہے، اس میں کچھ تبدیلی کر کے اس کو نماز کے ہال کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔کر رہے ہیں اور انشاء اللہ کیا جائے گا اور ان دونوں میں تقریباً چار پانچ سونمازی نماز پڑھ سکتے ہیں۔پھر کا رنوال میں ایک عمارت جس کو مسجد کی شکل دے دی جائے گی خریدی گئی ہے۔یہ بھی ماریشس کے احمدی ڈاکٹر ہیں انہوں نے خرید کے دی ہے۔تقریباً 3 لاکھ ڈالرز میں۔تو یہ کارنوال کا قصبہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے اس لئے یہاں اس ضرورت کے تحت تھوڑی زمین اور عمارت خریدی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ یہاں جماعت کو بھی توفیق دے کہ جو اپنے نیک نمونے قائم کرنے کا اصل