خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 388
خطبات مسرور جلد سوم 388 خطبہ جمعہ یکم جولائی 2005ء پھر ڈیوٹیوں کا ذکر تھا کہ مختلف قسم کے لوگ مختلف طبقات کے لوگ ڈیوٹیاں دے رہے ہوتے ہیں۔اور یہ سب لوگ ایک جذبے کے ساتھ مہمانوں کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں اور اس لئے کہ آنے والے مہمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان ہیں، خدا کی باتیں سننے کے لئے آنے والے مہمان ہیں۔پھر بہت سے احمدی جو کہ پیس و پیج (Peace Village) میں رہنے والے ہیں بلکہ میں کہوں گا کہ تقریباً ہر گھرانے نے اپنے گھر مہمانوں کے لئے پیش کئے ہوئے تھے اور اس میں خوشی محسوس کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جلسے کے مہمانوں کی خدمت کی توفیق دے رہا ہے۔بلکہ اس کے علاوہ بھی اور جگہوں پر بھی احمدی گھروں میں مہمان ٹھہرے ہوئے تھے اور سب خوشی سے مہمانوں کی خدمت کر رہے تھے۔پیس ولیج میں شائد اس لئے بھی زیادہ مہمان آئے ہوں کہ میرا قیام اس جگہ تھا۔تو بہر حال یہ نظارے جماعت میں محبت اور اخلاص اور ایک دوسرے کی خدمت اور مہمان نوازی کے اس لئے نظر آتے ہیں کہ جماعت ایک لڑی میں پروئی ہوئی ہے۔اور نظام خلافت سے ان کو محبت اور تعلق ہے۔اور خلیفہ وقت کے اشارے پر اٹھنے اور بیٹھنے والے لوگ ہیں۔یہ نظارے ہمیں جماعت احمدیہ سے باہر کہیں نظر نہیں آ سکتے۔افراد جماعت کا خلافت سے تعلق اور خلیفہ وقت کا احباب سے تعلق ایک ایسا تعلق ہے جو دنیا داروں کے تصور سے بھی باہر ہے۔اس کا احاطہ وہ کر ہی نہیں سکتے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے بڑا سچ فرمایا تھا کہ جماعت اور خلیفہ ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔بہر حال یہ تعلق جو جماعت اور خلافت کا ہے ان جلسوں پر اور ابھر کر سامنے آتا ہے۔الحمد لله ، مجھے اس بات کی خوشی ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کینیڈا بھی اس اخلاص و وفا کے تعلق میں بہت بڑھی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کا یہ تعلق مزید بڑھاتا چلا جائے اور یہ وقتی جوش اور جذبے کا تعلق نہ ہو۔آپ لوگوں نے ہمیشہ محبت اور وفا کا اظہار کیا ہے۔27 مئی کو جب میں نے خلافت کے حوالے سے خطبہ دیا تھا تو جماعتی طور پر بھی اور مختلف جگہوں سے ذاتی طور پر بھی ، سب سے پہلے اور سب سے زیادہ خطوط وفا اور تعلق کے مجھے کینیڈا سے ملے