خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 31
خطبات مسرور جلد سوم عطا فرمائے۔31 خطبہ جمعہ 14 جنوری 2005ء ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابوسعید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کسی شخص کو مسجد میں عبادت کے لئے آتے جاتے دیکھو تو تم اس کے مومن ہونے کی گواہی دو۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کی مساجد کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔( ترمذی ابواب التفسير سورة التوبة حديث نمبر 3093) پھر ایک روایت ہے ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم جنت کے باغوں میں سے گزرا کرو تو وہاں کچھ کھا پی لیا کرو۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! یہ جنت کے باغات کیا ہیں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مساجد جنت کے باغات ہیں۔میں نے عرض کی یا رسول اللہ ان سے کھانے پینے سے کیا مراد ہے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔سُبْحَانَ اللهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرِ پڑھنا۔(ترمذى كتاب الدعوات باب ماجاء في عقد التسبيح باليد باب نمبر 85حديث نمبر 3509) اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنا، اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنا ، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا۔تو ایک مومن اپنے ایمان میں مضبوطی کے لئے ہدایت کے راستے پر چلنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس دنیا اور آخرت کی جنت کے پھل کھانے کے لئے مسجد میں جاتا ہے۔پس یہی مسجدوں کا مقصد ہے۔اور اسی مقصد کے لئے مسجدیں بنائی جاتی ہیں دنیا داری تو مسجدوں کے پاس سے بھی نہیں گزرنی چاہئے۔بلکہ ایک روایت میں تو آتا ہے کہ کسی گمشدہ چیز کا مسجد میں اعلان کرنا بھی منع ہے، اس میں بھی بددعا دی گئی ہے۔تو جب یہاں تک حکم ہو تو پھر مسجد میں تو دنیا داری کی باتوں کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مسجدوں میں تو اس لئے اکٹھا ہوا جاتا ہے کہ ایک دوسرے سے محبت اور پیار اور الفت پیدا ہو۔ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کرنے کا احساس پیدا ہو۔