خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 360
خطبات مسرور جلد سوم 360 خطبہ جمعہ 17 / جون 2005ء کھانے پینے سے کیا مراد ہے؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ پڑھنا۔(ترمذى كتاب الدعوات - باب حديث في أسْمَاء الله الحسنى مع ذكرها تماماً) الحمد للہ کہ آج ( یا کل انشاء اللہ تعالیٰ کہہ لیں، ویسے بھی جب ارادہ ہو جائے تب سے کام تو شروع ہو جاتا ہے ) آپ بھی ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہو رہے ہیں جو جنت کا باغ لگانے جارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے کہ جلد سے جلد اس کی تکمیل کر سکیں اور یہ جنت کا باغ اپنی تمام تر رونقوں اور پھلوں کے ساتھ جہاں آپ کو فائدہ دے رہا ہو وہاں دنیا کو بھی نظر آئے۔شروع میں میں نے عرض کیا تھا کہ جس مسجد کی بنیاد تقویٰ پر ہے وہی مسجد ایسی ہے جو خدائے واحد کی عبادت کرنے والوں کی مسجد کہلاتی ہے۔تقویٰ کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی محبت دلوں میں رکھتے ہوئے اس کے احکامات پر عمل کرنا۔اس کے احکامات میں اس کی عبادتوں کا بھی حکم ہے۔اس کی مخلوق کے حقوق ادا کرنے کا بھی حکم ہے۔پس ہماری عبادتیں بھی اس وقت تک خالص نہیں ہوسکتیں اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا ہماری قربانیاں بھی اس وقت تک قبولیت کا درجہ نہیں پاسکتیں جب تک ہم اللہ کی مخلوق کے حق ادا کرنے والے بھی نہ ہوں گے۔رشتوں کے حقوق ادا کرنے والے بھی نہیں ہوں گے۔ہمسایوں کے حقوق ادا کرنے والے بھی نہ ہوں گے اور جب تک ہم اس سوچ میں اپنی زندگی گزارنے والے نہ ہوں گے کہ معاشرے کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں۔پس جہاں ہر احمدی کو اپنی عبادتوں کے معیار بڑھانے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کی کوشش میں ترقی کرنی ہوگی وہاں معاشرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی۔تبھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم تقویٰ پر قدم مارنے والے ہیں اور ہماری مساجد کی بنیادیں تقویٰ پر اٹھائی جانے والی ہیں۔اور ہمارے میناروں سے خدائے واحد کے حکم کے مطابق محبت کے نعرے بلند ہوتے ہیں۔