خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 359
خطبات مسرور جلد سوم 359 خطبہ جمعہ 17 / جون 2005ء ہوتے ہیں ان کو ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ دل دنیا کے دکھاوے کے لئے قربانیاں دینے والے دل ہیں۔نہیں، بلکہ یہ لوگ وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے یہ قربانیاں کر رہے ہیں اور جب تک اس سوچ کے ساتھ قربانیاں دیتے رہیں گے اس وقت تک آپ اور آپ کی نسلیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وارث ٹھہرتی رہیں گی انشاء اللہ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ اس کی رضا حاصل کرنے اور تقویٰ پر قائم رہنے والوں سے محبت کرتا ہے اور ان کے لئے جنت میں گھر تعمیر کرتا ہے۔حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس بات اور عمل سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ مسجد میں عمدہ اور مضبوط بنانا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منشاء کے مطابق ہے۔شروع میں حالات ایسے نہیں تھے کہ زیادہ مضبوط اور پکی مسجدیں بنائی جائیں۔لیکن جب حالات بہتر ہوئے تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی توسیع بھی کی اور اسے مضبوط بھی بنایا۔لیکن بنیادی چیز تقویٰ ہے جسے ہمیشہ ہر احمدی کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔یہ جو مسجد نبوی کی توسیع کی گئی تھی وہ بھی خالصتا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کی گئی تھی اور تقویٰ کی بنیاد پر تھی۔پس ہر احمدی ہمیشہ یہ بات ذہن نشین رکھے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کرتے رہیں گے تو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں گے اور یوں جنت کے وارث بھی بنتے رہیں گے۔یہ جنت اس دنیا میں بھی ملے گی اور اگلے جہان میں بھی۔ایک تو جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے مسجد کی تعمیر اللہ کی رضا کی خاطر ہو، دوسرے ان مسجدوں میں اللہ کی عبادت اور اس کا ذکر ہوتار ہے جس کا ایک حدیث میں یوں ذکر آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم جنت کے باغوں میں سے گزرا کرو تو وہاں کچھ کھا پی لیا کرو۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! یہ جنت کے باغ کیا ہیں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مساجد جنت کے باغ ہیں۔میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ان سے