خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 234 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 234

خطبات مسرور جلد سوم 234 خطبہ جمعہ 15 اپریل 2005ء عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے تین دن سے زائد بیمار رہنے کی صورت میں اس کی عیادت کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔(سنن ابن ماجه۔کتاب الجنائز - باب ما جاء في عيادة المريض) جیسا کہ پہلی روایت میں آتا ہے کہ آپ سے بڑھ کر کوئی عیادت کرنے والا نہیں تھا۔جب آپ اتنے پیار اور محبت سے مریض کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے ہوں گے تو مریض کی آدھی بیماری تو اس وقت خود ہی دور ہو جاتی ہوگی۔عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر ڈاکٹر مریض کو توجہ سے دیکھ لے، اس کی بات غور سے سن لے تو اس مریض کی آدھی بیماری دور ہو جاتی ہے۔اور وہی ڈاکٹر ان کو پسند آتے ہیں جو اس طرح ان کو توجہ سے دیکھ بھی رہے ہوں اور ان کی باتیں بھی سن رہے ہوں۔تو جو سب طبیبوں سے بڑھ کر اور سب ڈاکٹروں سے بڑھ کر طبیب ہے اس کے آنے سے یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ مریض بہتری محسوس نہ کر رہا ہو۔جو انتہائی توجہ سے مریض کی بات کو بھی سنتا تھا اس کے لئے دعا بھی کرتا تھا۔مریض کے علاج میں برکت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا اذن نہ ہو تو دوائی میں شفا نہیں ہوتی۔دوائی میں شفا بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی ہے۔تو آپ کا یہ طریق تھا کہ جب بھی مریض کے پاس جاتے تو اس کے لئے سب سے پہلے دعا کرتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی کسی بیوی کی عیادت کے لئے آتے تو اپنا دایاں ہاتھ اس پر پھیرتے اور یہ دعا کرتے " أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ انْتَ الشَّافِى - لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاءُ كَ شِفَاءٌ لَا يُغَادِرُ سَقَمًا۔کہ اے میرے اللہ ! جولوگوں کا رب ہے اس بیماری کو دور کر دے۔اور تو شفا دے کہ تو ہی شفا دینے والا ہے۔تیری شفا کے سوا کوئی اور شفا نہیں۔تو اسے ایسی شفادے جو بیماری کا کچھ بھی اثر نہ چھوڑے۔(مسلم) - كتاب السلام - باب استحباب رقية المريض) اور یہ صرف اپنے گھر والوں کے لئے خاص نہیں تھا بلکہ دوسرے مریضوں کے ساتھ بھی آپ کا یہی سلوک تھا۔جب بھی مریض کی عیادت کے لئے جاتے تو ان کے لئے ضرور دعا کرتے۔