خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 235 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 235

خطبات مسرور جلد سوم 235 خطبہ جمعہ 15 اپریل 2005 ء چنانچہ اپنے صحابہ سے شفقت اور ان کی بیماری میں ان کے لئے دعا کرنے کے بارے میں روایت میں آتا ہے، حضرت عائشہ بنت سعد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے ابا نے بیان کیا کہ میں مکہ میں شدید بیمار ہو گیا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے اور میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! میں مال چھوڑ کر جا رہا ہوں مگر میری وارث صرف ایک بیٹی ہے۔تو اس پر انہوں نے پوچھا کہ اس کے لئے کتنی جائیداد چھوڑ دوں۔خیر یہ جائیداد کی باتیں ہوتی رہیں۔آنحضور نے فرمایا کتنی چھوڑنی ہے۔یہاں اس وقت کیونکہ بیماری کے حصے سے تعلق ہے اتنا حصہ میں بتا دیتا ہوں۔تو کہتے ہیں کہ پھر یہ باتیں کرنے کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میری پیشانی پہ رکھا۔پھر میرے چہرے اور پیٹ پر اپنا دست مبارک پھیرتے ہوئے يد دعا کی اَللّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا وَاتِمَّ لَهُ هِجْرَتَهُ کہ اے اللہ سعد کو شفا دے اور اس کی ہجرت کو پورا فرما۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اب بھی جب میں اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی ٹھنڈک اپنے پیٹ پر محسوس کرتا ہوں۔(الادب المفرد للبخارى -باب العيادة جوف الليل) پھر ابن منکدر روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں ایک دفعہ بیمار ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ میری عیادت کے لئے تشریف لائے تو انہوں نے مجھے بیہوش پایا۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوفر ما یا پھر اپنے وضو کا بقیہ پانی میرے اوپر انڈیل دیا تو اس سے مجھے افاقہ ہو گیا۔جب مجھے ہوش آیا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس پایا۔(الادب المفرد للبخارى - باب عيادة المغمى عليه ) تو تیز بخار کو توڑنے کے لئے پانی سے علاج کیا جاتا ہے اب بھی پانی کی پٹی کی جاتی ہے۔لیکن یہ پانی جو تھا یہ تو دعاؤں سے بھرا ہوا تھا اور وضو بھی شاید آپ نے اس لئے فرمایا تھا کہ اس وقت آپ ان کے لئے خاص دعا کرنا چاہتے ہوں گے۔پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم