خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 184 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 184

خطبات مسرور جلد سوم 184 خطبہ جمعہ 25 / مارچ 2005ء مبارک خوشی سے تمتانے لگا۔(السيرة النبوية لابن هشام ، ذكر غزوة بدر الكبرى ابوبكر و عمر والمقداد وكلماتهم في الجهاد واستيثاق الرسول ﷺ من امر الانصار) تو اس واقعہ سے جہاں آپ کی اس احتیاط کا پتہ چلتا ہے کہ اکثریت کی رائے بھی آنی چاہئے وہاں یہ مقصد بھی تھا کہ مشورہ دینے والے اپنی بات کا پاس بھی رکھیں گے۔ان کے پاس کوئی عذر نہیں ہوگا کہ ہمیں تو زبر دستی اس میں کھینچا گیا ہے۔ہماری مدد تو صرف مشروط تھی ، ایک حد تک تھی۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی گہرائی سے انسانی نفسیات کو سمجھتے ہوئے ان سب سے مشورہ لیا۔پھر اُس سے اس انقلاب عظیم کا بھی پتہ چلتا ہے جو آپ نے تھوڑے وقت میں ان لوگوں میں پیدا فرما دیا کہ کہاں تو محدود مشروط حفاظت کا معاہدہ تھا اور کہاں یہ انقلاب آیا کہ سمندروں میں کودنے کے لئے تیار ہو گئے۔پس آپ کے مشورہ کا ایک یہ بھی مقصد ہوتا تھا کہ ان نئے ایمان لانے والوں کے ایمان کو بھی پر کھا جا سکے۔ان کے دلوں کو ٹول کر اللہ اور اس کے رسول کی محبت کا جائزہ لیا جا سکے۔یہ نمونے آپ نے قائم کرنے کی اس لئے بھی کوشش کی کہ بعد میں آنے والے بھی ان نمونوں پر چلنے والے ہوں۔آخرین بھی پہلوں سے ملنے کے نمونے دکھا ئیں۔جب شوری پر مشورے دیں تو صرف اس لئے نہ دیں کہ اپنے علم اور عقل کا اظہار کرنا ہے بلکہ اس لئے دیں کہ ان مشوروں پر عمل کرنے اور کروانے کے لئے ہم خود بھی ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہوں گے۔اگر خود یہ قربانیاں دینے کے لئے تیار نہیں تو پھر شوری کے ان نمونوں پر چلنے والے نہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہمیں نظر آتے ہیں۔اور وہ نمونے کیا تھے، اس کا اظہار آپ دیکھ چکے ہیں۔اس کی ایک جھلک ایک صحابی کے ان الفاظ سے بھی یوں نظر آتی ہے۔” مقداد بن اسود نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے، بائیں بھی لڑیں گے ، آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے۔“ 66 (بخاری کتاب المغازى باب قصة غزوة بدر۔حديث نمبر 3952) اور ایک روایت میں آتا ہے، یہ بھی کہا، کہ آپ کا دشمن آپ تک نہیں پہنچ پائے گا یہاں