خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 185 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 185

خطبات مسرور جلد سوم 185 خطبہ جمعہ 25 / مارچ 2005ء تک کہ وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا آئے۔اور پھر یہ صرف تقریر کی حد تک نہیں تھا۔بلکہ تاریخ اس بات کی شاہد ہے، گواہ ہے کہ اپنے عمل سے انہوں نے اپنے اس قول کو پورا کر کے دکھایا۔اس میں ہمارے شوری کے نمائندگان کے لئے بھی ایک پیغام ہے۔اس پر غور کریں، اس پیغام کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔تبھی تمام دنیا کے نمائندگان شوری خلافت اور نظامت خلافت اور نظام جماعت کی حفاظت میں سچے ثابت ہو سکتے ہیں۔جیسا کہ ذکر آیا ہے کہ جب بھی مسلمانوں پر جنگیں ٹھونسی گئیں تو تبھی انہوں نے جواب دیا اور جب بھی ایسے موقعے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے ضرور مشورہ لیا۔لیکن اگر کبھی فیصلہ خود فرما بھی لیا اور بعد میں کوئی بہتر رائے سامنے آگئی تو فوراً اس بہتر رائے کو اختیار فرمالیا۔چنانچہ جنگ بدر کے واقعہ کا ایک روایت میں یوں ذکر آتا ہے کہ جس جگہ اسلامی لشکر نے ڈیرہ ڈالا ہوا تھا وہ ایسی اچھی جگہ نہ تھی اس پر حباب بن منذر نے آپ سے دریافت کیا کہ آپ نے خدائی الہام کے تحت یہ جگہ پسند فرمائی ہے یا محض اپنی رائے سے فوجی تدبیر اور حکمت عملی سے سے اختیار کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بارے میں کوئی خدائی حکم نازل نہیں ہوا بلکہ یہ میری رائے، ایک حکمت عملی اور محض ایک داؤ پیچ ہے اس لئے اگر تم اس سے بہتر کوئی مشورہ دینا چاہتے ہو تو بتاؤ۔حباب نے عرض کی کہ پھر میرے خیال میں پڑاؤ کے لئے یہ جگہ اچھی اور مناسب نہیں ہے۔بہتر ہوگا کہ آگے بڑھ کر قریش سے قریب ترین چشمے پر قبضہ کر لیا جاوے۔میں اس چشمے کو جانتا ہوں اس کا پانی اچھا ہے اور عموماً ہوتا بھی کافی ہے۔وہاں مد مقابل قریش کی نسبت پانی کے زیادہ قریب ہوں گے اس لئے وہاں جا کر پڑاؤ کریں اور اس جگہ سے پیچھے جتنے کنویں ہیں ان کا پانی گہرا کر دیں۔پھر اس جگہ پر ہم ایک حوض بنا ئیں اور اس کو پانی سے بھر لیں اور پھر ان لوگوں سے جنگ کریں۔اس صورت میں ہم تو پانی پی سکیں گے مگر وہ پانی نہیں پی سکیں گے۔تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے بہت اچھا مشورہ دیا ہے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ تمام لوگ اٹھ کر چل پڑے اور اپنے مد مقابل کی نسبت پانی