خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 101
خطبات مسرور جلد سوم 101 خطبہ جمعہ 18 فروری 2005ء حضرت عائشہؓ کی ایک اور روایت ہے کہ ایک رات میری باری میں باہر تشریف لے گئے۔کیا دیکھتی ہوں کہ ایک کپڑے کی طرح زمین پر پڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں سَجَدَ لَكَ سَوَادِي وَ خَيَالِي وَامَنَ لَكَ فُؤَادِى رَبِّ هَذِهِ يَدَاىَ وَ مَا جَنَيْتُ بِهَا عَلَى نَفْسِيْ - يَا عَظِيمًا يُرْجى لِكُلّ عَظِيمٍ اِغْفِرِ الذَنْبَ العَظِیم کہ اے اللہ ! تیرے لئے میرے جسم و جان سجدے میں ہیں میرا دل تجھ پر ایمان لاتا ہے۔اے میرے رب ! یہ میرے دونوں ہاتھ تیرے سامنے پھیلے ہیں اور جو کچھ میں نے ان کے ساتھ اپنی جان پر ظلم کیا وہ بھی تیرے سامنے ہے۔اے عظیم ! جس سے ہر عظیم بات کی امید کی جاتی ہے، عظیم گناہوں کو تو بخش دے۔پھر فرمایا کہ اے عائشہ ! جبریل نے مجھے یہ الفاظ پڑھنے کے لئے کہا ہے۔تم بھی اپنے سجدوں میں یہ پڑھا کرو۔جو شخص یہ کلمات پڑھے سجدے سے سراٹھانے سے پہلے بخشا جاتا ہے۔(مجمع الزوائد للهيثمي كتاب الصلوة باب ما يقول في ركوعه وسجوده) | آ ویہ کسی طرح گوارا نہیں تھا کہ آرام دہ بستر پر سوئیں اور گہری نیند ہو جو اللہ کی یاد سے غافل کر دے۔حضرت حفصہ روایت کرتی ہیں کہ : ایک رات انہوں نے بستر کی چادر کی چار جہیں کر دیں ، ذرا نرم ہو گیا۔تو صبح آپ نے فرمایا رات تم نے کیا بچھایا تھا۔اسے اکبر اکر دو یعنی ایک رہنے دو۔اس نے مجھے نماز سے روک دیا۔(الشمائل النبوية للترمذى باب ما جاء فى فراش رسول الله صلى الله عليه وسلم ) شاید کچھ دیر کے لئے گہری نیند آ گئی ہوگی۔اور آپ کو یہ گوارا نہ تھا کہ ذرا دیر کے لئے بھی اللہ سے غافل ہوں۔حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ : جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری یا کسی اور وجہ سے تہجد رہ جاتی تھی تو آنحضور ﷺ دنکو بارہ رکعتیں نوافل ادا کیا کرتے تھے۔(صحیح مسلم ، کتاب صلاة المسافرين باب جامع صلاة الليل ومن نام عنه او مرض) خدا کی عبادت کے سامنے آپ نے اپنی صحت کی بھی کبھی پرواہ نہیں کی۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ : ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ