خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 98
خطبات مسرور جلد سوم 98 خطبہ جمعہ 18 / فروری 2005ء آپ کا دایاں ہاتھ آپ کے دائیں رخسار پر تھا۔آپ نے پھر رونا شروع کر دیا۔یہاں تک کہ آپ کے آنسوز مین پر ٹپکنے لگے۔آپ اسی حالت میں تھے کہ فجر کی اذان دینے کے بعد بلال آئے جب انہوں نے آپ کو اس طرح گریہ وزاری کرتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ اتنا کیوں روتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ آپ کے گزشتہ اور آئندہ ہونے والے سارے گناہ بخش چکا ہے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔(تفسير روح البيان زیر تفسیر سوره آل عمران آیت (191-192) اب مور صاحب (Moore) کیا کہتے ہیں؟ جس بیوی سے شادی کے بارے میں مور (Moore) نے ذہن کا گند نکالا ہے اس کی گواہی یہ ہے کہ مجھے چھوڑ کر اللہ کے حضور گریہ وزاری کرنے کے لئے حاضر ہو گئے۔اور یہ کوئی ایک دو دفعہ کی بات نہیں ہے۔اکثر ایسے واقعات ہوا کرتے تھے۔بلکہ ہر روز ہر بیوی کے ہاں یہ نظارے نظر آئیں گے۔اب دیکھیں حضرت عائشہ کی باری بھی آتی ہے۔جب نو بیویاں تھیں تو نو دن کے بعد آتی ہو گی۔آپ کی لاڈلی بیوی بھی ہیں۔اس میں بھی کوئی شک نہیں۔لیکن لاڈلی بھی اس لئے ہیں کہ اس بیوی کے گھر سب سے زیادہ وحی آپ پر نازل ہوئی اللہ تعالیٰ کا کلام اترا ہے۔تو یہاں بھی لاڈ اور پیار کا معیار اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے۔تو نو دن کے بعد جب اس بیوی کے پاس آتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ دل بے چین ہے، مجھے خدا کی عبادت کرنے دو۔اور پھر ساری رات گڑ گڑا کر زمین کوتر کرتے رہتے ہیں۔روتے ہوئے دعائیں کرتے ہوئے گزری۔اس رب کی شکر گزاری کرتے ہیں جس نے اتنے احسانات کئے ہیں۔کیا کوئی دنیا دار آدمی ایسے عمل کر سکتا ہے؟ لیکن دنیا داروں کے، اندھوں کے یہ معیار ہی نہیں۔ان کے تو معیار ہی اور ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ” خدا تعالیٰ تو اپنے بندوں کی صفت میں فرماتا ہے يَتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِيَامًا ﴾ (الفرقان : 65) کہ وہ اپنے رب کے لئے تمام رات سجدہ اور قیام میں گزارتے ہیں۔اب دیکھورات