خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 89
خطبات مسرور جلد سوم 89 6 خطبہ جمعہ 18 فروری 2005ء آنحضرت صلی اللا علیم کی عبادات کا اعلیٰ معیار خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 2005ء بمقام بیت الفتوح۔مورڈن ،لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت کی :۔إِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيْلاة پھر فرمایا:۔( المزمل : 7 ) اس آیت کا ترجمہ ہے کہ رات کا اٹھنا یقینا نفس کو پاؤں تلے کچلنے کے لئے زیادہ شدید اور قول کے لحاظ سے زیادہ مضبوط ہے۔یہ وہ قرآنی حکم ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور آپ نے اس کا حق ادا کر دیا بلکہ دعوی سے پہلے بھی، نبوت سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ کی تلاش میں اسی طرح اعتکاف کیا کرتے تھے۔اپنی راتوں کو آرام میں یا کسی شوق میں گزارنے کی بجائے عبادتوں میں گزارتے تھے۔راتوں کی عبادت جب رات گہری ہو، ہر طرف خاموشی ہو ، بندے اور خدا کے درمیان کسی قسم کی روک ڈالنے والی چیز نہ ہو، بندے اور اللہ کے درمیان راز و نیاز میں کوئی چیز روک نہ بنے ، اس وقت جو اللہ کی عبادت کرنے والے ہوتے ہیں وہ یقیناً اللہ کا قرب پانے والے اور اس کا پیار حاصل کرنے والے ہوتے ہیں۔کیونکہ وہ خالصتا اللہ کے قرب کے لئے یہ عبادت بجالا رہے ہوتے ہیں تبھی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس طرح رات کو اٹھنا اپنے نفس کو پاؤں تلے کچلنے کے