خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 744
خطبات مسرور جلد سوم 744 خطبہ جمعہ 23 / دسمبر 2005ء اس بات کا دعوی کرنا جو تم کرتے نہیں بہت ناپسندیدہ ہے۔اس کے عذاب کو بھڑ کانے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ : یا د رکھو کہ صرف لفاظی اور استانی کام نہیں آسکتی جب تک عمل نہ ہو۔اور باتیں عند اللہ کچھ وقعت نہیں رکھتیں“۔رپورٹ جلسه سالانه 1897ء صفحه 80) یعنی ادھر ادھر کی باتیں مارنا یا بہانے کرنا یا وضاحتیں کرنا یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کچھ وقعت نہیں رکھتیں۔عمل ہی ہے جو وقعت رکھنے والی چیز ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ: ”اسلام کا دعویٰ کرنا اور میرے ہاتھ پر بیعت تو بہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ جب تک ایمان کے ساتھ عمل نہ ہو کچھ نہیں۔منہ سے دعویٰ کرنا اور عمل سے اس کا ثبوت نہ دینا خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکانا ہے اور اس آیت کا مصداق ہو جانا ہے ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ - كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُونَ ﴾ (الصف: (43)۔۔پس وہ انسان جس کو اسلام کا دعوی ہے یا جو میرے ہاتھ پر تو بہ کرتا ہے اگر وہ اپنے آپ کو اس دعوے کے موافق نہیں بناتا اور اس کے اندر کھوٹ رہتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے بڑے غضب کے نیچے آ جاتا ہے۔اس سے بچنا لازم ہے۔“ (الحكم مورخه 10 جولائی 1903ء صفحه 15 کالم نمبر 2) اس غضب سے بچنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: دعائیں کرتے رہو کوئی ثابت قدم نہیں رہ سکتا جب تک خدا نہ رکھے۔(الحكم مورخه 24 مارچ 1903ء صفحه 8 کالم نمبر 1 (2) پس آپ سب جن کو اللہ تعالیٰ نے جلسے سے چند دن پہلے میچ پاک کی اس روحانیت سے پُر اور پیاری بستی میں آنے کا موقع دیا ہے، مختلف جگہوں پر جاتے ہیں، پرانی عمارتیں ہیں ، بہشتی مقبرہ ہے، ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے۔تو یاد رکھیں کہ آپ نے اپنے قول و فعل میں یک رنگی پیدا کرنی ہے اور یہ کیفیت پیدا کرنے کے لئے دعائیں کرنی ہیں۔جو آ رہے ہیں وہ بھی یہاں کے دن رات دعاؤں میں گزار ہیں۔اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے والا بنائیں اور اپنے