خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 743
خطبات مسرور جلد سوم 743 خطبہ جمعہ 23 / دسمبر 2005ء ہیں۔اس لئے ایسی صورت جب ہو تو مہمان خود بھی جو ایک دوسرے کے واقف ہیں، ایک دوسرے کو پیار اور حکمت سے سمجھاتے رہیں۔پھر سب احمدی چاہے وہ میزبان ہیں یا مہمان ،اس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں کہ یہاں ہمارے جلسے پر بہت سے غیر از جماعت اور غیر مسلم بھی شامل ہوتے ہیں۔شوق سے شامل ہونے کے لئے آ جاتے ہیں اور عموماً بڑے متاثر ہو کر جاتے ہیں اور اب تو ایم ٹی اے کے کیمروں کی نظر بھی آپ پر ہوگی۔اس لئے جلسے کے دوران اور سڑکوں وغیرہ پر آپ کی ہر حرکت اور سکون سلجھا ہوا ہونا چاہئے جو دوسروں پر نیک اثر ڈالنے والا ہو۔یہاں کی ایک بڑی پڑھی لکھی شخصیت ہیں ، ان کے زیر انتظام سکول بھی چلتے ہیں مجھے ملنے آئے تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ میں بچپن سے اپنے والد صاحب کے ساتھ جلسے پر آ رہا ہوں اور اب تو عادت پڑ گئی ہے اس لئے ہمیشہ شامل ہوتا ہوں حالانکہ وہ غیر مسلم تھے۔انہوں نے بتایا کہ والد صاحب بتایا کرتے تھے کہ قطع نظر اس کے کہ ہمارے مذہب اور احمدیوں کے مذہب میں فرق ہے لیکن جو باتیں جلسے میں ہوتی ہیں وہ ایسی پیاری اور نیکی کی باتیں اور نیکی کی طرف بلانے والی باتیں ہوتی ہیں کہ انہیں ضرور سننا چاہئے اور اس لئے میں شامل ہوتا ہوں۔تو دیکھیں غیروں پر بھی ہمارے جلسوں کا ایک نیک اثر ہے۔ہمارے بزرگوں نے جواثر پیدا کیا اور اسے قائم رکھا۔ہمارا بھی کام ہے کہ اپنی روایات کو قائم رکھیں۔جس تعلیم کا دعویٰ ہے اس پر سختی سے کار بند ہوں۔اس پر عمل کرنے والے ہوں۔اپنی بھی اصلاح کریں اور دوسروں کے لئے بھی نیک نمونے قائم کریں۔اس لئے ہر احمدی کو یہ عہد کرنا چاہیئے کہ اس نے نیک اور پاک نمونوں کو اپنے اوپر لاگو کرنا ہے۔اگر ہم صرف نیک باتیں کرتے ہیں اور ان پر عمل نہیں کرتے تو یہ نیکی کی باتیں بے فائدہ ہیں۔ایک احمدی میں کبھی بھی دو عملی نہیں ہونی چاہئے۔یہ جلسے بھی ہماری تبلیغ کے ذریعے ہیں اس لئے ہر احمدی کو جو اس میں شامل ہونے کے لئے آتا ہے اپنی اصلاح کی طرف ان دنوں میں توجہ دینی چاہئے اور اپنے قول و فعل کو ایک کرنا چاہئے ، اللہ تعالیٰ کا ہمیں یہی حکم ہے۔فرمایا ہے ﴿يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ - كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (الصف: 3-4) یعنی اے مومنو! وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔خدا کے نزدیک