خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 742 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 742

خطبات مسرور جلد سوم 742 خطبہ جمعہ 23 / دسمبر 2005ء انتظامیہ سے غیر ضروری توقعات وابستہ نہ کریں۔بے آرامی بھی اگر ہو تو اس کو برداشت کریں۔جلسے کے یہ چند دن ہیں اور پھر آپ آئے بھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہیں۔باہر سے جو آنے والے ہیں خاص طور پر یورپ وغیرہ سے، بعض اوقات ان کو سردی بھی لگے گی، خاص طور پر گھروں کے اندر سردی لگے گی، کیونکہ وہاں ان کو ہیٹنگ (Heating) کی عادت ہے، یہاں وہ چیزیں اور وہ سہولتیں میسر نہیں۔لیکن اگر آپ اللہ تعالیٰ کی خاطر برداشت کر رہے ہوں گے تو اس کوفت میں بھی مزا آئے گا۔بستروں کے لئے میں گزشتہ خطبے میں بھی بتا چکا ہوں کہ لے کر آئیں۔جو آ گئے ہیں اگر نہیں لائے تو یہاں سے خریدنے کا انتظام کریں، انتظامیہ سے رابطہ کر کے جو بھی میسر ہو سکتا ہے بہر حال جو تو فیق رکھتے ہیں وہ خریدیں تا کہ نظام پر بوجھ نہ پڑے۔پھر جب جلسہ ختم ہوگا اور اگر آپ کے بستر بہتر حالت میں اور نئی حالت میں اور اچھی حالت میں ہوں تو جاتے ہوئے آپ یہاں کے انتظام جلسہ کو دے کر جا سکتے ہیں تا کہ اگلے سال مہمانوں کے کام آ سکیں۔یہ بھی آپ کے لئے ایک ثواب کمانے کا ذریعہ ہے۔تو بہر حال جن کو یہاں کے انتظام کے تحت بستر ملیں، جیسے بھی ہیں اس پر صبر شکر کریں۔اس سال آج تو کچھ سردی کا ذرا سا زور ہے، 1991ء کی نسبت تو بہت کم سردی ہے شاید جلسے کے دنوں میں بڑھتی چلی جائے۔بہر حال 1991ء میں مجھے یاد ہے کہ شدید سردی تھی اور رضائی اور لحاف نا کافی ہوتے تھے اس لئے سویٹر اور جیکٹ پہن کر ہی سونا پڑتا تھا۔تو بہر حال مہمان یہ بات یاد رکھیں کہ بجائے میزبان سے توقعات رکھنے کے خود جس حد تک انتظام کر سکتے ہیں جو آسودہ حال ہیں وہ اپنے انتظام کریں تا کہ جو غریب ہیں ان کے لئے جو انتظام ہے اس کے تحت جس حد تک سہولت میسر کی جاسکتی ہے، کی جا سکے۔اللہ تعالیٰ سب مہمانوں کو صبر اور برداشت سے یہ دن گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے عموماً احمدی جو جلسے پر آتے ہیں اسی جذبے کے تحت آتے ہیں۔لیکن بعض دفعہ بعض غصیلی طبیعتیں یا نازک مزاج اپنے رویے کی وجہ سے انتظامیہ کے لئے بھی تکلیف کا باعث بن جاتے ہیں اور ماحول کو بھی خراب کر رہے ہوتے