خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 739
خطبات مسرور جلد سوم 739 خطبہ جمعہ 23 / دسمبر 2005ء کے اعلیٰ نمونے دکھانے ہیں۔بعض دفعہ بعض نوجوان جو زیادہ جوشیلی طبیعت کے مالک ہوتے ہیں ذراسی بات پر جوش میں آجاتے ہیں اور جھگڑ کر نہ صرف فضا کو مکدر کر رہے ہوتے ہیں بلکہ ساتھ ہی دوسروں پر، غیروں پر ، دیکھنے والوں پر بھی جماعت کا اچھا اثر قائم نہیں کر رہے ہوتے۔اس لئے ہمیشہ یاد رکھیں کہ جہاں بھی آپ خدمت کر رہے ہیں وہاں بعض عملہ یا کام کرنے والے غیر از جماعت یا غیر مسلم بھی ہوتے ہیں مثلاً لنگر خانوں وغیرہ میں آپ مزدوروں کو کسی قسم کی غلط حرکت کر کے غلط تاثر دے رہے ہوں گے۔پس اس سے بھی بچیں۔کچھ عرصے کی بات ہے مجھے ایک نوجوان نے لکھا کہ 1991ء میں آپ کی یہاں ڈیوٹی تھی ، یعنی میری یہاں ڈیوٹی تھی۔اُس وقت میں نے لنگر خانہ نمبر 1 میں بطور نائب ناظم کے لنگر میں ڈیوٹی دی تھی۔اس لڑکے کی بھی یہاں ڈیوٹی تھی یہیں قادیان انڈیا کے رہنے والے تھے۔اس لڑکے نے کہا کہ اسے غصہ آ گیا اور وہ کہتا ہے کہ میں نے ایسے الفاظ کہے جس سے پاکستانی معاونین اور کام کرنے والے، ڈیوٹی دینے والے جو آئے ہوئے تھے، ان کے خلاف غصے کا اظہار ہوتا تھا۔تو مجھے اس نوجوان نے لکھا کہ اس وقت میں بالکل نو جوانی کی عمر میں تھا۔اس لئے غصہ بھی زیادہ آتا تھا تو آپ نے مجھے دیکھا اور اس بات پر کچھ نہیں کہا اور مسکرا دیئے۔اور میرے دوبارہ یا تیسری مرتبہ کہنے پر میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پیار سے سمجھایا کہ ہم کس طرح ڈیوٹی دیں گے؟ ہم کون ہیں؟ اس نوجوان پر اثر ہوا ہو گا تو اس نے یہ بات آج تک یاد رکھی ہے ور نہ اس وقت میں نائب ناظم کی حیثیت سے اس کی سرزنش کرتا یا شکایت کرتا یا پاکستانی جو دوسرے معاونین تھے ان کے غصے کو بھڑ کنے دیتا تو صرف نفرتیں بڑھتیں اور کچھ بھی نہ ہوتا۔تو یہ بات اس نے بارہ تیرہ سال یا درکھی ہے اور اب مجھے لکھی ہے۔تو آپس میں ڈیوٹیاں دینے والے پیار محبت سے کام کیا کریں۔اس طرح جہاں کام کے بہتر نتائج نکلیں گے وہاں آپ خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے بھی ٹھہریں گے۔وہاں آپ جماعت کا نیک اثر قائم کرنے والے بھی ہوں گے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس طرح کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔