خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 740 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 740

خطبات مسرور جلد سوم 740 خطبہ جمعہ 23 / دسمبر 2005ء پھر بعض دفعہ افسران قومیت کے کمپلیکس (Complex) کی وجہ سے اپنے ماتحت افسران سے بلا وجہ چڑ جاتے ہیں۔یہ ساری عملی باتیں ہیں جو سامنے آتی ہیں جن کو میں بیان کر رہا ہوں اور میں دیکھ چکا ہوں۔اس سے کام پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔معاونوں اور مزدوروں کے کاموں پر بھی اثر پڑ رہا ہوتا ہے اس لئے افسران صیغہ جات بھی اپنے ماتحتوں اور دوسرے شعبے کے افسران کے متعلق وسعت حوصلہ سے کام لیا کریں۔افسران شعبہ جات تو بہر حال یہیں کے رہنے والے ہیں، اکثریت ان میں سے قادیان کی ہے یا شاید مربیان بھی ہوں گے۔باہر سے آنے والے کارکنان مکمل طور پر ان سے تعاون بھی کریں اور ان کی اطاعت بھی کریں، کسی قسم کا شکوہ نہ پیدا ہونے دیں۔لیکن بہر حال دونوں طرف سے ایک دوسرے کی خاطر بعض چیزیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ناظمین یا افسران شعبہ یا شعبوں کے جو انچارج ہیں وہ بھی یہ یاد رکھیں کہ بحیثیت نگران آپ کی تمام تر ذمہ داری ہے کہ شعبے کا کام صحیح طور پر اور صحیح نہج پر چل رہا ہو۔اگر پاکستان سے آئے ہوئے کارکنان یا کسی دوسرے ملک سے آئے ہوئے کارکنان یا کوئی بھی کارکنان جو آپ کی مدد کے لئے لگائے گئے ہیں، وہ صرف آپ کی مدد کے لئے لگائے گئے ہیں چاہے وہ کسی بھی عمر یا لیول (Level) کے ہوں۔اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ یہاں کے جو افسران اور انچارج بنائے گئے ہیں ان کی ذمہ داری ختم ہو گئی ہے۔بلکہ کسی بھی شکایت یا بے قاعدگی کی صورت میں جوابدہ شعبہ کا افسر ہوگا۔اس لئے کبھی آپ لوگوں کا یہ جواب نہ ہو کہ فلاں شخص جو پاکستان سے آیا تھا یا فلاں شخص جو فلاں ملک سے آیا تھا اور جس کو انتظامیہ نے اس کے تجربے کی و جہ سے ہمارے ساتھ لگا دیا تھا اس کی وجہ سے بعض خرابیاں پیدا ہوئی ہیں۔جس کی بھی کوتاہی ہو چاہے وہ معاون کی ہو افسران شعبہ یا نگران صیغہ جات کی جو بھی ہوں جو قادیان یا بھارت کے رہنے والے ہیں وہی ذمہ دار ہیں۔اور بحیثیت افسر وہ اپنے سب کارکنوں کے نگران ہیں۔اور یہی اصول ہمیں بتایا گیا ہے کہ نگران ہی اپنی زیر نگرانی کام کرنے والوں کے لئے یا اپنی رعایا کے عمل کے بارے میں پوچھا جائے گا۔پھر جیسا کہ میں نے کل معائنے کے دوران بھی کہا تھا کہ کارکنوں کی ڈیوٹیوں کی ادائیگی