خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 427
خطبات مسرور جلد سوم 427 خطبہ جمعہ 15 جولائی 2005ء ک اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤْدُّوا الأمنتِ إِلَى أَهْلِهَا ﴾ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے سپرد کردو) اس ساری امانت کو جناب الہی کو واپس دے دیتا ہے۔یعنی اس میں فانی ہو کر اس کی راہ میں وقف کر دیتا ہے۔۔اور یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طور پر ہمارے سید، ہمارے مولی ، ہمارے ہادی ، نبی امی صادق مصدوق محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی۔آئینه کمالات اسلام روحانی خزائن جلد پنجم صفحه 161-162) تو امانت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تمام طاقتوں کا اس کے موقع پر اور صحیح محل پر استعمال ہواور اظہار ہو۔اور اس کی سب سے اعلیٰ صورت یہ ہے کہ یہ تمام طاقتیں اور صلاحیتیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق خرچ کیا جائے۔جس میں خدا تعالیٰ کے حقوق بھی ادا ہوتے ہوں اور خدا تعالیٰ کی مخلوق کے حقوق بھی ادا ہوتے ہوں۔اور پھر یہی نہیں بلکہ زندگی کا ہر لمحہ اسی سوچ اور فکر میں گزرے کہ یہ حقوق ادا کرنے ہیں اور اپنی تمام طاقتیں اور صلاحیتیں اس کی تعلیم کے مطابق خرچ کرنی ہیں۔تبھی کہا جا سکتا ہے کہ اُس نے اپنی امانتوں کو اور عہدوں کو صحیح طور پر نبھایا اور ان کا حق ادا کیا۔تو آپ نے فرمایا کہ جب ہم آنحضرت علی اللہ کی زندگی کا جائزہ لیں تو ان تمام اخلاق کا اعلیٰ ترین معیار ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آتا ہے۔اور یہی اسوۂ حسنہ ہے جو ہمارے سامنے ہے۔اس کی پیروی سے ہمیں بھی خدا تعالیٰ کا قرب مل سکتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : کیا ہی خوش قسمت وہ لوگ ہیں جو اپنے دلوں کو صاف کرتے ہیں۔اور اپنے دلوں کو ہر ایک آلودگی سے پاک کر لیتے ہیں اور اپنے خدا سے وفاداری کا عہد باندھتے ہیں۔کیونکہ وہ ہرگز ضائع نہیں کئے جائیں گے۔ممکن نہیں کہ خدا ان کو رسوا کرے کیونکہ وہ خدا کے ہیں اور خدا اُن کا۔وہ ہر ایک بلا کے وقت بچائے جائیں گئے۔(کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحه 19-20) اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اپنے عہدوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان خوش قسمتوں میں شامل فرمائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کے لئے کی گئی دعاؤں کے وارث