خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 398 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 398

خطبات مسرور جلد سوم 398 خطبہ جمعہ یکم جولائی 2005ء نیکیاں اپنے اندر کس طرح پیدا کرنی چاہئیں ، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : نوافل ہمیشہ نیک اعمال کے مُتمم اور مکمل ہوتے ہیں اور یہی ترقیات کا موجب ہوتے ہیں۔مومن کی تعریف یہ ہے کہ خیرات وصدقہ وغیرہ جو خدا نے اس پر فرض ٹھہرایا ہے بجا لا وے اور ہر ایک کارخیر کے کرنے میں اس کو ذاتی محبت ہو اور کسی تصنع و نمائش وریاء کو اس میں دخل نہ ہو۔یہ حالت مومن کی اس کے بچے اخلاص اور تعلق کو ظاہر کرتی ہے اور ایک سچا اور مضبوط رشتہ اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ پیدا کر دیتی ہے۔اُس وقت اللہ تعالیٰ اس کی زبان ہو جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے۔اور اُس کے کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے۔اور اُس کے ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ کام کرتا ہے۔الغرض ہر ایک فعل اس کا اور ہر ایک حرکت سکون اس کا اللہ ہی کا ہوتا ہے۔اُس وقت جو اس سے دشمنی کرتا ہے وہ خدا سے دشمنی کرتا ہے“۔(ملفوظات جلد 3 صفحه 343 جدید ایڈیشن - الحکم 30 جون 1903ء صفحه 10 11) تو فرمایا کہ ہر نیک کام میں ، ہر کارخیر میں ذاتی محبت ہو۔ایک جوش سے نیکی کا کام ہورہا ہو، مجبوری سے نہ ہورہا ہو اور کوئی تصنع اور بناوٹ بھی نہ ہو۔نیکی دنیا کو دھوکا دینے کے لئے بھی نہ ہو رہی ہو۔دکھانے کے لئے بھی نہ ہو رہی ہو۔تو یہ ہے تعریف نیک اعمال بجالانے اور تقویٰ پر قائم ہونے کی۔اور پھر جب اس طرح پر اعمال بجالا رہے ہوں گے تو پھر اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اس کے انعاموں سے بھی حصہ پانے والے ہوں گے۔پس ان انعاموں سے حصہ پانے کے لئے ایک مسلسل اور مستقل عمل ہے جس پر ایک مومن کو چلنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو توفیق دے کہ گزشتہ دنوں کی برکتوں سے جو آپ نے حصہ پایا ہے اس کو ہمیشہ اپنی زندگی کا حصہ بنالیں اور معاشرے میں ایک دوسرے کے خلاف بعض جگہ جو نفرتیں پل رہی ہیں ان کو دُور کرنے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔بڑے درد سے آپ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ میرے مرید ہو کر مجھے بدنام نہ کریں۔