خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 399 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 399

خطبات مسرور جلد سوم 399 خطبہ جمعہ یکم جولائی 2005ء پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ”ہماری جماعت کو چاہئے کہ کوئی امتیازی بات بھی دکھائے۔اگر کوئی شخص بیعت کر کے جاتا ہے اور کوئی امتیازی بات نہیں دکھاتا۔اپنی بیوی کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہے جیسا پہلے تھا اور اپنے عیال و اطفال سے پہلے کی طرح ہی پیش آتا ہے تو یہ اچھی بات نہیں۔اگر بیعت کے بعد بھی وہی بد خلقی اور بدسلوکی رہی اور وہی حال رہا جو پہلے تھا تو پھر بیعت کرنے کا کیا فائدہ؟ چاہئے کہ بیعت کے بعد غیروں کو بھی اور اپنے رشتہ داروں اور ہمسایوں کو بھی ایسا نمونہ بن کر دکھاوے کہ وہ بول اٹھیں کہ اب یہ وہ نہیں رہا جو پہلے تھا۔خوب یا درکھو کہ صاف ہو کر عمل کرو گے تو دوسروں پر تمہارا ضر ور رعب پڑے گا۔(ملفوظات جلد 5 صفحه 282-283 جدید ایڈیشن - الحکم مورخه 24/ستمبر 1907ء صفحه 3°4) اللہ تعالیٰ سب کو بیعت کے حق کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمیشہ نیکیوں میں بڑھنے والے، نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ادا کرنے والے ہوں اور بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے والے ہوں اور یوں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا سایہ ہم پر ہمیشہ قائم رہے۔میرا یہاں کینیڈا میں اس دورہ کا یہ آخری جمعہ ہے۔مختصراً یہاں ذکر کر دوں کہ جو وفا اور پیار اور اخلاص میں نے آپ میں دیکھا اور محسوس کیا ہے خدا کرے یہ ہمیشہ قائم رہے۔اور آپ میں سے اکثریت جو اخلاص اور وفا میں بڑھی ہوئی ہے اپنے نمونوں اور اثر کی وجہ سے اپنے۔کمزوروں کو بھی اپنے ساتھ ملانے والی ہو، ہر فتنے سے محفوظ رہنے والی ہو۔اللہ آپ کو ہر فتنے سے محفوظ رکھے اور آپ لوگوں کو یہ بھی توفیق دے کہ احمدیت اور حقیقی اسلام کا پیغام اس خطہ کے لوگوں تک بھی پہنچانے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو اللہ کی طرف لے جانے والا راستہ دکھانے والے ہوں۔اللہ آپ کی طرف سے ہمیشہ مجھے خوشی کی خبریں پہنچا تار ہے۔خدا حافظ، السلام علیکم۔谢谢谢