خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 353 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 353

خطبات مسرور جلد سوم 353 خطبہ جمعہ 10 / جون 2005ء نہیں رکھتا اور یا ظالم طبع اور شریر مزاج یا بد چلن آدمی ہے۔اور یا یہ کہ جس شخص سے تمہیں تعلق بیعت یا ارادت ہے۔( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اور بعد میں خلفاء سے ) اس کی نسبت ناحق اور بے وجہ بدگوئی اور زبان درازی اور بد زبانی اور بہتان اور افتراء کی عادت جاری رکھ کر خدا تعالیٰ کے بندوں کو دھوکہ دینا چاہتا ہے تو تم پر لازم ہوگا کہ اس بدی کو اپنے درمیان سے دور کرو اور ایسے انسان سے پر ہیز کرو جو خطرناک ہے۔اور چاہئے کہ کسی مذہب اور کسی قوم اور کسی گروہ کے آدمی کو نقصان رسانی کا ارادہ مت کرو۔اور ہر ایک کے لئے بچے ناصح بنو۔“ (یعنی حقیقت میں ایسے ہو جاؤ کہ بچے طور پر ان کو نصیحت کرنے والے ہو، مشورہ دینے والے ہو۔اس کی بہتری چاہنے والے ہو ) ” اور چاہئے کہ شریروں اور بدمعاشوں اور مفسدوں اور بد چلنوں کو ہرگز تمہاری مجلس میں گزر نہ ہو۔اور نہ تمہارے مکانوں میں رہ سکیں کہ وہ کسی وقت تمہاری ٹھوکر کا موجب ہوں گے۔یہ وہ امور اور وہ شرائط ہیں جو میں ابتدا سے کہتا چلا آیا ہوں۔میری جماعت میں سے ہر ایک فرد پر لازم ہوگا کہ ان تمام وصیتوں کے کار بند ہوں۔اور چاہئے کہ تمہاری مجلسوں میں کوئی ناپاکی اور ٹھٹھے اور جنسی کا مشغلہ نہ ہو۔اور نیک دل اور پاک طبع اور پاک خیال ہو کر زمین پر چلو۔( بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ بیٹھ کر مجلسیں جماتے ہیں اور دوسروں پر ہنسی ٹھٹھا کر رہے ہوتے ہیں۔پھر فرمایا کہ:۔''یا درکھو کہ ہر ایک شر مقابلہ کے لائق نہیں۔اس لئے لازم ہے کہ اکثر اوقات عفو اور درگزر کی عادت ڈالو۔اور صبر اور حلم سے کام لو۔اور کسی پر نا جائز طریق سے حملہ نہ کرو۔اور جذبات نفس کو دبائے رکھو۔(پھر آپ فرماتے ہیں کہ : " خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں ایک ایسی جماعت بناوے کہ تم تمام دنیا کے لئے نیکی اور راستبازی کا نمونہ ٹھہر۔(اب نمونہ تو اس وقت بنیں گے جب اپنے اندر ایسی تبدیلیاں پیدا کریں گے کہ جن کا ایک معیار ہو ، جو نظر آتی ہوں۔جن کو دیکھ کر دوسرے یہ کہہ سکیں کہ ہاں واقعی ایسی تبدیلی پیدا ہو چکی ہے کہ یہ نمونہ قابل تقلید ہے۔پھر فرمایا: ”سو اپنے درمیان سے ایسے شخص کو جلد نکا لوجو بدی اور شرارت اور فتنہ انگیزی