خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 338
خطبات مسرور جلد سوم 338 خطبہ جمعہ 3 / جون 2005ء میرے وقت میں شروع ہوا اور انشاء اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ سے امید ہے وہ خواہش پوری کرے گا جیسا کہ وہ ہمیشہ کرتا آیا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو یہ موقع دے رہا ہے کہ اس نیک کام میں ،اس کار خیر میں حصہ لیں اور شامل ہو جائیں اور اس علاقے کے بیمار اور دکھی لوگوں کی دعائیں لیں۔آجکل دل کی بیماریاں بھی زیادہ ہیں۔ہر ایک کو علم ہے کہ ہر جگہ بے انتہا ہو گئی ہیں اور پھر علاج بھی اتنا مہنگا ہے کہ غریب آدمی تو افورڈ (Afford) کر ہی نہیں سکتا۔ایک غریب آدمی تو علاج کروا ہی نہیں سکتا۔پس غریبوں کی دعائیں لینے کا ایک بہترین موقع ہے جو اللہ تعالیٰ آپ کو دے رہا ہے۔اس سے فائدہ اٹھا ئیں۔ہم جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم وہ آخرین ہیں جنہوں نے نیکی کے ہر میدان میں پہلوں سے ملنا ہے، ہم اپنے دعوے میں تبھی بچے ثابت ہو سکتے ہیں جب ان نیکی کے کاموں میں ان مثالوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں جو پہلوں نے ہمارے لئے قائم کی ہیں۔وہ لوگ تو امیر ہوں یا غریب کسی بھی مالی تحریک پر بے چین ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مال پیش کیا کرتے تھے۔محنت کرتے تھے، مزدوری کرتے تھے اور اپنی استعدادوں کے مطابق قربانی پیش کرتے تھے اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانیوں کو بے انتہا نوازا اور اللہ تعالیٰ اپنی خاطر کئے گئے کسی عمل کو ضائع نہیں کرتا۔ان قربانیوں کا ذکر حدیث میں یوں آتا ہے۔حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا ارشاد فرماتے تو ہم میں سے کوئی بازار چلا جاتا جہاں وہ محنت مزدوری کرتا اور اسے اجرت کے طور پر جو ایک مد اناج وغیرہ ملتا۔چھوٹی موٹی جو مزدوری وغیرہ ملتی تھی، اللہ کی راہ میں خرچ کرتا۔اور اب ان کا یہ حال ہے کہ ان میں سے بعض کے پاس ایک ایک لاکھ درہم یا دینار ہیں۔(بخارى كتاب الأجارة ـ باب من آجر نفسه ليحمل على ظهره ثمّ تصدق به) تو اس اُسوہ پر چلتے ہوئے قربانیوں کے نظارے جماعت احمدیہ میں بھی نظر آتے ہیں۔پس آج بھی ان نظاروں کو ختم نہ ہونے دیں اور خدمت انسانیت کے اس اہم کام میں بڑھ چڑھ کر