خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 339 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 339

خطبات مسرور جلد سوم حصہ لیں۔339 خطبہ جمعہ 3 / جون 2005ء جہاں تک انسٹیٹیوٹ کے لئے ڈاکٹر ز کا تعلق ہے، ہمارے امریکہ کے ایک ڈاکٹر نے مستقل وقف کیا ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ وہ جلد ربوہ پہنچ جائیں گے۔دوسرے یہاں بھی بعض نو جوان واقفین زندگی ڈاکٹر ز تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو اپنی تعلیم مکمل ہونے پر وہاں چلے جائیں گے۔اور پاکستان میں بھی بعض نوجوان ہیں جنہوں نے وقف کیا ہے ٹریننگ لے رہے ہیں۔اور اسی طرح ڈاکٹر نوری صاحب کی سرپرستی میں انشاء اللہ یہ ادارہ چلتا رہے گا۔اللہ تعالیٰ ان کی عمر اور صحت میں بھی برکت ڈالے۔اور پھر یہ ادارہ مکمل ہونے کے بعد میں دوسرے سپیشلسٹ ڈاکٹروں سے بھی کہوں گا کہ وہ بھی وقف عارضی کر کے یہاں آیا کریں۔اللہ تعالیٰ ، انشاء اللہ ان کی قربانیوں کے بدلے ضرور دے گا، اجر ضرور دے گا۔اور دعا کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ اس ادارے کو بہت کامیاب ادارہ بنائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " تمہارے لئے ممکن نہیں کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا سے بھی۔صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو، پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرے۔اور اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کر کے اس کی راہ میں مال خرچ کرے گا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی۔کیونکہ مال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔پس جو شخص خدا کے لئے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے وہ ضرور اسے پائے گا۔لیکن جو شخص مال سے محبت کر کے خدا کی راہ میں وہ خدمت بجا نہیں لاتا جو بجالانی چاہئے تو وہ ضرور اس مال کو کھوئے گا“۔یعنی اس کا مال ضائع ہو جائے گا۔یہ مت خیال کرو کہ مال تمہاری کوشش سے آتا ہے۔بلکہ خدا تعالی کی طرف سے آتا ہے۔اور یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی حصہ مال کا دے کر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجالا کر خدا تعالیٰ اور اس کے فرستادہ پر کچھ احسان کرتے ہو۔بلکہ یہ اُس کا احسان ہے کہ تمہیں اس خدمت کے لئے بلاتا ہے اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تم سب کے سب مجھے چھوڑ دو اور خدمت اور امداد سے پہلو تہی کرو تو وہ ایک قوم پیدا کر دے گا کہ اس کی خدمت بجالائے گی۔