خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 238
خطبات مسرور جلد سوم 238 خطبہ جمعہ 15 اپریل 2005 ء تو اس طرح سے آپ نے اسے تسلی بھی دی اور صبر کی تلقین بھی فرمائی۔تو بیمار کو اس کے مناسب حال اور اس کے ایمان کی حالت کے مطابق مختلف لوگوں کو مختلف تسلی کے الفاظ بھی فرمایا کرتے تھے۔پھر حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب میری آنکھوں میں تکلیف تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے تھے۔(ابوداؤد - كتاب الجنائز - باب العيادة من الرمد اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ غزوہ خندق میں جب سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو کسی دشمن نے بازو پر نیزہ مارا جس سے آپ کی رگ کٹ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا خیمہ مسجد نبوی میں ہی لگوادیا تا کہ قریب سے ان کی تیمار داری کر سکیں۔(ابوداؤد كتاب الجنائز باب في العيادة مرارًا) تو یہ زخم علاج کے باوجود جب ٹھیک نہیں ہورہا تھا تو آپ نے اس محبت کی وجہ سے جو آپ کو صحابہ سے تھی یہی مناسب سمجھا کہ اپنے قریب رکھوں تا کہ علاج کی بھی نگرانی ہوتی رہے اور مجھے تسلی بھی رہے اور خود حضرت سعد کی تیمارداری بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرسکیں۔اور یہ بھی روایت میں ہے کہ آپ نے ان کے لئے ایسا بھی انتظام فرما دیا تھا کہ با قاعدہ ایک نرس کا انتظام کر دیا تھا جو ان کا علاج کرے، با قاعدہ پٹی کرے، دیکھ بھال کرے۔اور مسجد نبوی میں ایسے خیمے لگے ہوئے تھے جہاں جنگ کے بعد مریضوں کے علاج معالجہ کے لئے انتظام ہوتا تھا اور وہیں ان کی با قاعدہ نرسنگ وغیر ہ بھی ہوا کرتی تھی۔پھر حضرت ام علاء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں بیمار تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لئے میرے ہاں تشریف لائے اور میری تسلی کے لئے فرمایا کہ ام علاء ! بیماری کا ایک پہلوخوش کن بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ مرض کی وجہ سے ایک مسلمان کی خطائیں اس طرح دور کر دیتا ہے جس طرح آگ سونے اور چاندی کا میل کچیل دور کر دیتی ہے۔(ابوداؤد - كتاب الجنائز - باب عيادة النساء )