خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 239 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 239

خطبات مسرور جلد سوم 239 خطبہ جمعہ 15 اپریل 2005 ء دیکھیں کس طرح سے مریضوں کو تسلی دیتے رہتے تھے۔اس بات کو آپ اچھا نہیں سمجھتے تھے کہ بیماری کی وجہ سے بیماری کو کو سنے دیئے جائیں، بیماری کو برا بھلا کہا جائے کہ یہ کیا کمبخت بیماری آگئی ہے، جس طرح بعضوں کو عادت ہوتی ہے۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُمّم سائب کے پاس گئے تو ان کو تکلیف میں دیکھا۔اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے۔اُمّم سائب نے جواب دیا کہ بخار ہو گیا ہے، خدا اسے غارت کرے۔یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہرو، بخار کو گالیاں نہ دو کیونکہ یہ مومن کی خطائیں ویسے ہی دور کر دیتا ہے جس طرح بھٹی سونے کی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔(الأدب المفرد للبخاري - باب عيادة المرضى) اللہ تعالیٰ سے شفا کی دعا ضرور کرنی چاہئے اور آپ خود بھی مریضوں کے لئے کیا کرتے تھے لیکن اس طرح کو سنے نہیں دینے چاہئیں۔دعا اور صدقہ و خیرات سے اللہ تعالیٰ کی مدد مانگنی چاہئے۔اور بیماری پر جو صبر کی تلقین تھی وہ صرف دوسروں کے لئے نہیں تھی بلکہ اگر خود بھی کبھی بیمار ہوتے تھے یا تکلیف میں ہوتے تھے تو سب سے بڑھ کر صبر دکھانے والے تھے۔آپ کی بیماری کے واقعہ کا ذکر ایک روایت میں یوں آتا ہے۔حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ وہ اس حال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا اور وہ چادر لے کر لیٹے ہوئے تھے۔حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے آپ کی چادر کے اوپر ہاتھ رکھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بخار کی حرارت چادر کے اوپر سے محسوس کی۔کافی تیز بخار تھا۔تو حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! آپ کو کتنا سخت بخار ہے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم پر اسی طرح شدید آزمائشیں آتی ہیں اور اجر بھی ہم کو بڑھا چڑھا کر دیا جاتا ہے۔تو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کن لوگوں کو سب سے زیادہ آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انبیاء کو۔پھر ان کے بعد صلحاء کو اور صالح لوگوں میں سے کسی کو غربت سے آزمایا