خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 229
خطبات مسرور جلد سوم 229 خطبہ جمعہ 8 اپریل 2005ء بے تحا شاد شنی تھی۔اس کے باوجود آپ انتہائی ثابت قدمی سے اور مستقل مزاجی سے اپنے کام کو کرتے رہے اسی تو کل کی وجہ سے جو آپ کو خدا تعالیٰ کی ذات پر تھا۔پھر آپ فرماتے ہیں: "تبتل کا عملی نمونہ ہمارے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔نہ آپ کو کسی کی مدح کی پروا، نہ ذم کی۔نہ کسی کی تعریف کی پرواہ تھی اورنہ یہ پرواہ کہ کوئی برا کہتا ہے یا نہیں کہتا۔کیا کیا آپ کو تکالیف پیش آئیں مگر کچھ بھی پرواہ نہیں کی۔کوئی لالچ اور طمع آپ کو اس کام سے نہ روک سکا جو آپ خدا کی طرف سے کرنے آئے تھے۔جب تک انسان اس حالت کو اپنے اندر مشاہدہ نہ کرلے اور امتحان میں پاس نہ ہو لے کبھی بھی بے فکر نہ ہو۔پھر یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جو شخص متبتل ہوگا متوکل بھی وہی ہوگا۔“ ( یعنی جو خدا کی طرف کو لگانے والا ہوگا اور دنیا کو کچھ نہیں سمجھتا وہی اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والا بھی ہوگا۔) ” گویا متوکل ہونے کے واسطے متبتل ہونا شرط ہے۔کیونکہ جب تک اوروں کے ساتھ تعلقات ایسے ہیں کہ ان پر بھروسہ اور تکیہ کرتا ہے اس وقت تک خالصتا اللہ پر توکل کب ہو سکتا ہے۔جب خدا کی طرف انقطاع کرتا ہے تو وہ دنیا کی طرف سے توڑتا ہے اور خدا میں پیوند کرتا ہے“۔( جب اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑو گے تو دنیا سے تعلق توڑو گے )۔اور یہ تب ہوتا ہے جبکہ کامل تو کل ہو۔جیسے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل متل تھے ویسے ہی کامل متوکل بھی تھے۔اور یہی وجہ ہے کہ اتنے وجاہت والے اور قوم و قبائل کے سرداروں کی ذرا بھی پروا نہیں کی اور ان کی مخالفت سے کچھ بھی متاثر نہ ہوئے۔آپ میں ایک فوق العادت یقین خدا تعالیٰ کی ذات پر تھا۔اسی لئے اس قدر عظیم الشان بوجھ کو آپ نے اٹھا لیا اور ساری دنیا کی مخالفت کی اور ان کی کچھ بھی ہستی نہ کبھی۔یہ بڑا نمونہ ہے تو کل کا جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔اس لئے کہ اس میں خدا کو پسند کر کے دنیا کو مخالف بنالیا جاتا ہے۔مگر یہ حالت پیدا نہیں ہوتی جب تک گویا خدا کو نہ دیکھ لے، جب تک یہ امید نہ ہو کہ اس کے بعد دوسرا دروازہ ضرور کھلنے والا ہے۔جب یہ امید اور یقین ہو جاتا ہے تو وہ عزیزوں کو خدا کی راہ میں دشمن بنالیتا ہے۔اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ خدا اور دوست بنادے گا۔جائیدا دکھو دیتا ہے کہ