خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 228
خطبات مسرور جلد سوم 228 خطبہ جمعہ 8 اپریل 2005 ء گھاٹیوں کے پیچھے لگا رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی پرواہ نہیں کرتا کہ کون سی وادی اس کی ہلاکت کا سبب بنتی ہے۔اور جو اللہ پر توکل کرتا ہے تو اللہ سے ان سب گھاٹیوں سے بچالیتا ہے۔ابن ماجه كتاب الزهد باب التوكل ) یعنی دنیا کی ہوا و ہوس، خواہشات اور لالچ کی وادیاں ہیں جن سے دل بھرا ہوا ہے۔بہت سے ایسے ہیں جہاں غیر اللہ نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کی بجائے دنیا کا خوف اور اس پر انحصار زیادہ ہوتا ہے۔فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کی کچھ بھی پرواہ نہیں ہوتی۔اور خدا تعالیٰ ہر موقعہ پر دل میں خیال آنے پر ایسے مواقع پیدا کر دیتا ہے کہ اس کا بندہ بچ جائے جس کو اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : واقعات حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر کرنے سے یہ بات نہایت واضح اور نمایاں اور روشن ہے کہ آنحضرت اعلیٰ درجہ کے یک رنگ، اور صاف باطن اور خدا کے لئے جان باز اور خلقت کے بیم و امید سے بالکل منہ پھیر نے والے اور محض خدا پر توکل کرنے والے تھے۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے کوئی امید نہیں رکھتے تھے۔بلکہ خدا تعالیٰ پر مکمل تو کل تھا) کہ جنہوں نے خدا کی خواہش اور مرضی میں محو اور فنا ہو کر اس بات کی کچھ بھی پروانہ کی کہ توحید کی منادی کرنے سے کیا کیا بلا میرے سر پر آوے گی۔اور مشرکوں کے ہاتھ سے کیا کچھ دکھ اور در داٹھانا ہو گا۔بلکہ تمام شدتوں اور سختیوں اور مشکلوں کو اپنے نفس پر گوارا کر کے اپنے مولیٰ کا حکم بجالائے۔اور جو جو شرط مجاہدہ اور وعظ اور نصیحت کی ہوتی ہے وہ سب پوری کی اور کسی ڈرانے والے کو کچھ حقیقت نہ سمجھا۔ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ تمام نبیوں کے واقعات میں ایسے مواضعات خطرات اور پھر کوئی ایسا خدا پر توکل کر کے کھلا کھلے شرک اور مخلوق پرستی سے منع کرنے والا ، اور اس قدر دشمن اور پھر کوئی ایسا ثابت قدم اور استقلال کرنے والا ایک بھی ثابت نہیں“۔(براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد اول صفحه 111، 112) یعنی یہ چیلنج ہے کہ ایسے حالات پیدا ہوئے۔جہاں آپ کو سب سے زیادہ خطرہ تھا،