خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 193 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 193

خطبات مسرور جلد سوم 193 خطبہ جمعہ 25 / مارچ 2005ء کو مشوروں کی اہمیت کا احساس دلانے کے لئے ان کو مشوروں کی عادت ڈالنے کے لئے مشورے کیا کرتے تھے۔اور اس بارے میں ایک موقع پر نصیحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ”جس سے مشورہ لیا جاتا ہے وہ امین ہوتا ہے۔“ اس کو امانت کا حق ادا کرنا چاہئے۔اور پھر فرمایا کہ "تم میں سے اگر کوئی اپنے بھائی سے مشورہ مانگے تو وہ اسے مشورہ دے“۔(سنن ابن ماجه ، كتاب الادب -باب المستشار مؤتمن) اور مشورے کی یہ اہمیت ہے کہ اس کو امانت قرار دیا گیا ہے اور امانت کا حق ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ کا بڑا واضح حکم ہے۔پھر ایک روایت میں اس طرح بھی آتا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میری طرف جس نے بھی ایسی جھوٹی بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔اور جس سے اس کے مسلمان بھائی نے کوئی مشورہ طلب کیا اور اس نے بغیر رشد کے مشورہ دیا یعنی بغیر غور و خوض اور عقل استعمال کئے تو اس نے اس سے خیانت کی ہے۔(الأدب المفرد للبخارى، باب المشورة) خیانت کرنے والوں کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ گناہوں میں بڑھے ہوئے لوگ ہوتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ ان کو بالکل پسند نہیں کرتا۔پس مشورے بھی بڑی سوچ سمجھ کر دینے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو یہ توفیق دے کہ وہ ان نصائح پر عمل کرنے والا ہو، اس اسوہ پر عمل کرنے والا ہو۔پھر ایک روایت میں آتا ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ مشورہ لیتے وقت کس قسم کے لوگوں سے مشورہ لینا چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ سمجھدار اور عبادت گزارلوگوں سے مشورہ کرو اور مخصوص افراد کی رائے پر نہ چلو۔(كنز العمال باب فى الاخلاق وافعال المحمودة حرف الميم المشورة) جلد 3 حديث نمبر 7191) صرف یہی ذہن میں نہ سوچ لو کہ یہ چند افراد ہیں عقل کی بات کر سکتے ہیں ان کے علاوہ کوئی مشورہ نہیں دے سکتا۔یہ دیکھو کہ عقل ہو اور عبادت گزار ہو۔پس اس میں بھی نمائندگان شوری کے لئے