خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 192
خطبات مسرور جلد سوم 192 خطبہ جمعہ 25 / مارچ 2005ء دوران میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر میں سے سنا تو وہ بھی جلدی جلدی گھر سے دوڑتے ہوئے آئے اور وہ کہہ رہے تھے کہ یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں نے خواب میں ایسے ہی دیکھا ہے جیسے اب میں دیکھ رہا ہوں۔( المواهب اللدنية (رؤيا الاذان )۔الجزء الاول - دار الكتب العلميه بيروت طبع اول 1996 صفحه 163) (مسند احمد بن حنبل - جامع ترمذی ابواب الصلاة باب ماجاء في يدء الاذان) پھر بعض قومی معاملات میں بھی آپ عورتوں سے بھی مشورے لے لیا کرتے تھے۔ازواج مطہرات سے بھی مشورے لے لیا کرتے تھے۔حدیبیہ کے موقع پر جب صلح نامہ لکھا گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ اٹھو اور اونٹوں کو ذبح کرو۔صحابہ کو اس کا بڑا افسوس تھا اور وہ اس پر کسی طرح راضی نہ تھے۔اس لئے کہ شاید اس کو شکست سمجھتے تھے۔جب پھر بھی کوئی کھڑا نہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور صحابہ کو قربانیوں کا حکم دینے والا سارا واقعہ سنایا کہ اس طرح میں نے کہا ہے اور کوئی قربانی نہیں کر رہا۔اس پر ام سلمہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا آپ اپنی بات پر عمل دیکھنا چاہتے ہیں۔تو پھر باہر نکلیں اور کسی سے کوئی بات کئے بغیر اپنے اونٹ کو قربان کر دیں اور حجام کو بلوا کے اپنا سر منڈوانا شروع کر دیں۔تو دیکھیں صحابہ خود بخود آپ کے پیچھے چلیں گے۔چنانچہ آپ اٹھے اور خاموشی سے اسی طرح کرنا شروع کر دیا اور جب صحابہ نے یہ نظارہ دیکھا تو وہ بھی اپنی قربانیوں کی طرف لپکے اور ذبح کرنے لگے اور ایک دوسرے کے سرمونڈھنے لگے۔تو جن لوگوں کا خیال ہے اور اعتراض کرنے والوں کی طرف سے یہ شور مچایا جاتا ہے کہ اسلام میں عورت کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں۔اس روایت سے ظاہر ہے کہ اس موقع پر ایک عورت کی ہی ہوش و حواس پر قائم رائے مردوں کو راستہ دکھانے کا باعث بنی تھی۔اس نے مردوں کو راستہ دکھایا تھا۔کیونکہ اس وقت جوش میں پتہ نہیں لگ رہا تھا کہ کیا کریں۔غرض جیسا کہ میں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مختلف نوعیت کے مشوروں کے بے شمار واقعات ہیں جن کا احاطہ ممکن نہیں۔لیکن جیسا کہ ذکر کر آیا ہوں آپ اصل میں تو امت