خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 173
خطبات مسرور جلد سوم 173 خطبہ جمعہ 18 / مارچ 2005ء دنیا کے مال کی آپ کی نظر میں کوئی وقعت نہیں تھی اور آپ کی ہر وقت یہ خواہش ہوتی تھی کہ جو بھی مال آئے میں لوگوں میں تقسیم کر دوں۔حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں جارہا تھا۔تو سامنے اُحد پہاڑ تھا۔اس کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا آ جائے تو مجھے اس بات سے خوشی ہوگی کہ اس پر تیسرا دن چڑھنے سے پہلے پہلے اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دوں اور ایک دینار بھی اپنے پاس بچا کے نہ رکھوں۔سوائے اس کے کہ جو میں قرض ادا کرنے کے لئے رکھ لوں اور سارا مال خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دوں۔آپ نے دائیں بائیں، آگے پیچھے ہاتھوں سے اشارہ کر کے بتایا کہ اس طرح سارا مال دے دوں۔پھر فرمایا کہ جو لوگ زیادہ مالدار ہیں قیامت کے دن وہ گھاٹے میں ہوں گے۔سوائے ان کے جو اس طرح دائیں اور بائیں، آگے پیچھے خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔مگر ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں۔(بخاری - كتاب الرقاق - باب قول النبي لا ما يسرني ان عندى مثل احد هذا ذهبا) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سخاوت کرنے والا اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے اور جنت کے بھی قریب اور لوگوں کے بھی قریب ہوتا ہے اور دوزخ سے دور ہوتا ہے۔جبکہ بخیل انسان ، ( کنجوس انسان ) اللہ سے دور ہوتا ہے، لوگوں سے بھی دور ہوتا ہے اور دوزخ سے قریب ہوتا ہے۔اور جاہل سنی ، بخیل عبادت کرنے والے کی نسبت اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے۔(ترمذی - کتاب البر – باب ما جاء في السخاء ) یعنی ایک جاہل انسان ہو لیکن سخاوت کرنے والا ہو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ زیادہ محبوب ہے بہ نسبت اُس کے جو بڑا عبادت گزار بھی ہولیکن کنجوس ہو۔ی تھی وہ تعلیم جس کے مطابق آپ نے اپنی تمام عمر گزاری۔آپ کی جو دوسخا کے بے تحاشا واقعات ہیں لیکن بیان نہیں ہو سکتے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :