خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 172 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 172

خطبات مسرور جلد سوم ہوتی ہوں۔172 خطبہ جمعہ 18 / مارچ 2005ء روایات میں آتا ہے کہ بعض اوقات ایسا ہوتا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص سے ایک چیز خریدتے اور پھر قیمت چکا دینے کے بعد، وہی چیز اس کو بطور عطیہ واپس فرما دیتے۔بطور تحفہ کے واپس دے دیتے تھے۔ایک مرتبہ آپ نے حضرت عمر سے ایک اونٹ خریدا اور پھر اسی وقت اسے حضرت عبداللہ بن عمر کو دے دیا۔ان کے بیٹے کو وہ اونٹ تحفے کے طور پر دے دیا۔(بخاری - كتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها باب اذا وهب بعيرا لرجل وهو راكبه فهو جائز) پھر ایک اور روایت میں آتا ہے۔جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں غزوہ سے واپسی پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔آپ نے فرمایا جو کوئی آگے بڑھ کر گھر والوں کو پہلے ملنا چاہے وہ تیزی سے روانہ ہو کر گھر پہنچ جائے۔حضرت جابر کہتے ہیں کہ یہ سن کر ہم جلدی سے آگے بڑھے۔میں کالے سرخ بے داغ اونٹ پر سوار تھا اور لوگ مجھ سے پیچھے رہ گئے۔یکا یک میرا اونٹ اڑ گیا، چلنے سے رک گیا تو جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھ تک پہنچ گئے۔تو فرمایا کہ اے جابر ! اپنا اونٹ مضبوطی سے تھام اور پھر آپ نے اس کو ایک چابک ماری تو وہ چل پڑا اور دوسروں سے آگے نکل گیا۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے جابر! کیا تو اپنا اونٹ بیچتا ہے۔میں نے کہا ہاں بیچوں گا۔حضرت جابر کہتے ہیں کہ جب میں مدینہ پہنچا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ مسجد میں تشریف لے گئے۔میں آپ کے پاس گیا اور اونٹ کو باندھ دیا اور میں نے عرض کی کہ آپ کا اونٹ حاضر ہے۔آپ باہر نکلے اور اونٹ کے گرد پھرنے لگے۔اس کو دیکھا۔پھر فرمایا یہ ہمارا اونٹ ہے۔پھر آپ نے اس اونٹ کی قیمت کئی اوقیہ سونا ادا فرمائی۔اور پھر جس کے ہاتھ یہ قیمت بھجوائی تھی اس کو یہ فرمایا کہ یہ جابر کو دے دو۔پھر آ نے پوچھا کہ کیا تم نے قیمت وصول کر لی ہے۔تو جابر نے کہا ہاں یا رسول اللہ !۔اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ رقم بھی تمہاری ہے اور یہ اونٹ بھی تمہارا ہے۔دونوں چیزیں تم لے جاؤ۔(بخاري - كتاب الجهاد - باب من ضرب دآبة غيره في الغزو)