خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 125 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 125

خطبات مسرور جلد سوم 125 خطبہ جمعہ 25 فروری 2005ء کا بدلہ لینے کا عمدہ موقع تھا۔جب الٹ کر مکہ فتح کیا تو لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْم فرمایا۔غرض اس طرح سے جو دونو زما نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آئے اور دونوں کے واسطے ایک کافی موقع تھا کہ اچھی طرح سے جانچے پر کھے جاتے۔اور ایک جوش یا فوری ولولہ کی حالت نہ تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر طرح کے اخلاق فاضلہ کا پورا پورا امتحان ہو چکا تھا۔اور آپ کے صبر، استقلال، عفت، حلم، بردباری ، شجاعت ، سخاوت، جود وغیره وغیره کل اخلاق کا اظہار ہو چکا تھا اور کوئی ایسا حصہ نہ تھا کہ باقی رہ گیا ہو۔(ملفوظات جلد سوم صفحه 148-149 - البدر 20 مارچ 1903 صفحه 67) پھر فرمایا کہ: ” وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنے افعال سے اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قومی کے پر زور دریا سے کمال تام کا نمونہ علماً وعملاً وصد قاوثباتاً دکھلایا اور انسان کامل کہلایا یعنی اپنے تمام عمل اور فعل سے اعلیٰ نمونے دکھائے جو ایک مکمل انسان کے ہو سکتے ہیں۔وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا۔وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفیاء ، ختم المرسلین، فخر انبیین جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اے پیارے خدا! اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔اگر یہ عظیم الشان نبی دنیا میں نہ آتا تو پھر جس قدر چھوٹے چھوٹے نبی دنیا میں آئے جیسا کہ یونس اور ایوب اور مسیح بن مریم اور ملا کی اور بیچی اور زکریا وغیرہ وغیرہ ان کی سچائی پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تھی اگر چہ سب مقرب اور وجیہہ اور خدا تعالیٰ کے پیارے تھے۔یہ اسی نبی کا احسان ہے کہ یہ لوگ بھی دنیا میں بچے سمجھے گئے۔اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلَّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَالِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِيْنَ وَاخِرُ دَعْوَانَا أَن الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ اتمام الحجة - روحانی خزائن جلد 8 صفحه 308)