خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 693
خطبات مسرور جلد سوم 693 خطبہ جمعہ 25 /نومبر 2005ء اظہار کی خاطر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال بیان فرمائی ہے۔لیکن جو دین میں خرابی پیدا کرنے والے ہیں وہ چاہے کسی قوم کے ہوں رد کئے جانے والے ہیں کیونکہ احمدی معاشرہ ایک معاشرہ ہے اور جس طرح اس نے گھل مل کر دنیا میں وحدانیت قائم کرنی ہے، اسلام کا جھنڈا گاڑنا ہے، اگر ہر جگہ مختلف قسم کی باتیں ہونے لگ گئیں اس سے پھر دین بھی بدلتا جائے گا اور بہت ساری باتیں بھی پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے پھر بڑی بدعتیں پیدا ہوتی چلی جاتی ہیں ، اس لئے بہر حال احتیاط کرنی چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا مثال ہمارے سامنے قائم فرمائی۔آپ کی لاڈلی بیٹی کی شادی ہوئی سب جانتے ہیں پہلے بھی کئی دفعہ سن چکے ہیں، کس طرح سادگی سے ہوئی ؟ اگر دینا چاہتے تو بہت کچھ دے سکتے تھے۔لوگ تو قرض لے کر جہیز بناتے ہیں۔آپ کے صحابہ تو آپ پر بہت کچھ نچھاور کر سکتے تھے۔کئی صاحب حیثیت تھے، چیزیں مہیا کر سکتے تھے لیکن سادگی سے ہی آپ نے رخصت کیا۔ایک روایت میں آتا ہے جو کہ اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا اور اُم المومنین حضرت ام سلمی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم حضرت فاطمہ کو تیار کریں تا کہ ان کو علی کے پاس لے جائیں۔اس سے پہلے انہوں نے اپنے کمرے کی تیاری کی جس کا نقشہ کھینچا کہ ہم نے کمرے میں مٹی سے لپائی کی پھر دو تکئے تیار کئے جن میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔پھر ہم نے لوگوں کو کھجور اور انگور کھلائے اور انہیں میٹھا پانی پلایا اور ہم نے ایک لکڑی لی جس کو ہم نے کمرے کے ایک طرف لگا دیا تا کہ اس کو کوئی کپڑ الٹکانے اور من رمشکیزہ لٹکانے کے لئے استعمال کیا جا سکے۔پس ہم نے حضرت فاطمہ کی شادی سے زیادہ اچھی شادی اور کوئی نہیں دیکھی۔(سنن ابن ماجة، كتاب النكاح ، باب الوليمة) یہ نقشہ تو صرف کھینچا ہے انہوں نے شادی کا۔اس وقت کے لحاظ سے جو سادگی تھی آپ نے اس کے اعلیٰ معیار قائم کئے اور اپنی بیٹی کو یہ بھی بتایا کہ اصل چیز یہ سادگی ہی ہے اور خدا کی رضا ہے جس کو حاصل کرنے کی ایک مومن کو کوشش کرنی چاہئے۔بعد میں بھی ایک موقعہ پر جب