خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 678
خطبات مسرور جلد سوم 678 خطبہ جمعہ 18 /نومبر 2005ء تھے جنہیں راوی اس وقت نہیں جانتے تھے) پوچھا کیا تم اپنا یہ سرخ اونٹ فروخت کرنا چاہتے ہو؟۔انہوں نے کہا: ہاں ہم فروخت کرنا چاہتے ہیں۔پھر آپ نے فرمایا: کتنے میں فروخت کرو گے؟ تو انہوں نے کچھ صاع کھجوریں اس کی قیمت بتائی کہ اتنے میں فروخت کریں گے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے مجھے دے دو۔اور آپ نے وہ اونٹ لیا اور مدینہ کی طرف چل دیئے کہ قیمت مدینہ جا کے میں بھجوا دوں گا۔تو راوی کہتے ہیں کہ ہم نے دیکھا کہ آپ اونٹ لے کر چلے گئے اور ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔اس کے بعد ہمیں خیال آیا کہ ہم نے ان سے تعارف تو حاصل ہی نہیں کیا کہ کون ہے۔پتہ نہیں کون شخص ہے؟ کیا ہے؟ اب رقم بھی ملے گی یا نہیں؟ یا کھجوروں کا جو سودا ہوا ہے اس کی مقدار ملے گی یا نہیں ؟ اس فکر میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگ گئے۔ہر کوئی دوسرے کو کہ رہا تھا کہ تم نے کیوں اونٹ جانے دیا۔ایسے شخص کو اتنا قیمتی اونٹ دے دیا جس کو ہم جانتے ہی نہیں۔کہتے ہیں کہ ہمارے اس قافلے میں ایک خاتون بھی موجود تھیں۔( لگتا ہے کہ وہ بڑی ذہین اور قیافہ شناس تھیں اور ان میں مومنانہ فراست تھی) اس عورت نے ہمیں کہا کہ ایک دوسرے کو ملامت نہ کرو۔میں نے اس شخص کے چہرے کو دیکھا تھا وہ ایسا نہیں لگتا کہ تمہیں ذلیل کرے۔میں نے کبھی کسی شخص کا چہرہ ایسا نہیں دیکھا جو اس سے زیادہ چودھویں رات کے چاند سے مشابہت رکھتا ہو۔تو راوی کہتے ہیں کہ رات کے کھانے کے وقت ایک شخص ہمارے پاس آیا اور ہمیں سلام کیا اور بتایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامبر کے طور پر آیا ہوں۔انہوں نے تمہارے لئے کھانا بھیجا ہے، خوب سیر ہو کر کھاؤ۔اور یہ کھجور میں اپنے اونٹ کی قیمت کے مطابق ماپ لو یعنی کھانا بھی رات کا بھجوا دیا اور قیمت بھی بھجوا دی۔روایت آگے بھی چلتی ہے۔یہ لوگ پھر مدینہ گئے۔بہر حال دیکھیں آپ نے صرف یہ نہیں کہا کہ میں نے ماپ کے کھجوریں بھیج دی ہیں لے لو۔بلکہ فرمایا کہ تم لوگ بھی اس کو ماپ لو تا کہ کسی بھی قسم کا ابہام نہ رہے اور تمہاری قیمت پوری ہو جائے، کوئی غلط فہمی نہ رہے۔(سنن الدار قطنی کتاب البیوع روایت نمبر 186/2944) پھر ہمیں آپس کے لین دین کے بارے میں امانتوں کی ادائیگی کے بارے میں آپ