خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 674
خطبات مسرور جلد سوم 674 خطبہ جمعہ 18 /نومبر 2005ء اور طرح سے کرتے ہیں۔غریب ملکوں سے یا غیر مذہب قوموں سے لین دین اور طرح سے ہوتے ہیں۔بلکہ یہ بھی کرتے ہیں کہ غریب ملکوں کی معاشی پالیسیاں بنانے کے بہانے سے ان کو ایسے شیطانی معاشی چکر میں گرفتار کر دیتے ہیں کہ وہ ترقی کر ہی نہیں سکتے۔اور یہ لوگ پھر ان غریب ملکوں کی دولت بھی لوٹ لیتے ہیں۔تو ان سب چیزوں کی جڑ جن کی وجہ سے یہ فائدے اٹھائے جا رہے ہوتے ہیں اور نقصان پہنچائے جا رہے ہوتے ہیں یہی تجارتیں اور لین دین اور ماپ تول ہی ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ فرمایا ہے کہ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَ هُمْ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ ﴾ (الاعراف :86) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ کسی طور سے لوگوں کو ان کے مال کا نقصان نہ پہنچاؤ اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔سورۃ الاعراف میں ایک آیت میں اس مضمون کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ذلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنتُمْ مُؤْمِنِيْنَ ﴾ (الاعراف: 86) کہ تمہارے لئے بہتر تھا اگر تم ایمان لانے والے ہوتے۔پس آج یہ پیغام ہمیں ہر اس شخص تک اور ہر اس قوم کے لیڈروں تک پہنچانا چاہئے اور ہر اس قوم تک پہنچانا چاہئے جو ان تجارتی دھو کے بازیوں میں مبتلا ہیں کہ تم ان دھوکوں سے امن اور اپنی بالا دستی حاصل نہیں کر سکتے ، اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکامات پر ایمان لانا ضروری ہے ور نہ پرانی قوموں کی تباہیاں تمہارے سامنے ہیں۔یہ عذاب جنہوں نے پہلی قوموں کو تباہ کیا اب بھی آسکتے ہیں۔اگر ہوش کی آنکھ ہو تو دیکھیں کہ آرہے ہیں۔دنیا میں ہر جگہ جو آفتیں اور تباہیاں آ رہی ہیں امریکہ میں بھی، ایشیا میں بھی اور دوسری جگہوں میں بھی اور اب موسم کی سختیوں کے بارے میں بھی پیشگوئیاں کی جارہی ہیں۔تو ان آفتوں کی وجہ سے بہت ساری برائیاں جو دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں ان سے بچنے کا ایک ہی طریق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرو۔ہر احمدی کو یہ پیغام اپنے اپنے دائرے میں اور اپنے حلقے میں پہنچانا چاہئے ، قرآن کریم کے اندار کو سامنے رکھنا چاہئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے کو پیش کرنا چاہئے۔