خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 656
خطبات مسرور جلد سوم 656 خطبہ جمعہ 11 /نومبر 2005ء لئے میں نے انصار اللہ UK کی ذمہ داری لگائی تھی کہ وہ اس کا تمام خرج ادا کریں یا اکثر حصہ ادا کریں۔الحمد للہ کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری کو سمجھا اور بڑے کھلے دل کے ساتھ اس قربانی میں حصہ لیا اور اس طرح یہ مسجد کم و بیش ان کی قربانی سے ہی تعمیر ہوگئی۔جو وعدے انہوں نے کئے تھے وہ بھی 75 فیصد ادا ہو چکے ہیں، امید ہے بقایا بھی جلد ہی ادا کر دیں گے۔اللہ تعالیٰ ان سب کے اموال ونفوس میں بے انتہا برکت عطا فرمائے جنہوں نے اس مسجد کی تعمیر میں مالی قربانی کی صورت میں یا اور کسی بھی رنگ میں حصہ لیا۔بہت سا کام والنٹیئر ز ( Volunteers) نے وقار عمل کی صورت میں کیا۔دیکھنے والوں کو بظاہر یہ کام ناممکن نظر آتا تھا کہ آج اس تاریخ کو مسجد کا افتتاح ہو سکے گا۔لیکن ان والنٹیئر ز نے اس طرح رات دن کر کے کام کیا ہے کہ اس ناممکن کو آج ممکن بنا دیا ہے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کی قربانیوں کے نمونے ہیں جو آج جماعت احمدیہ کے علاوہ ہمیں کہیں نظر نہیں آتے۔جب ایک دفعہ کام میں لگ جائیں، ارادہ کر لیں کہ کرنا ہے پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے دعائیں کرتے ہوئے اس کام میں بہت جاتے ہیں اور جنونیوں کی طرح کام کرتے ہیں۔نہ رات کا ہوش رہتا ہے نہ دن کا ہوش رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو بہترین جزا دے، ان کی پریشانیوں اور مشکلوں اور مسائل کو دور فرمائے۔اب یہ مسجد تو بن گئی لیکن ہماری ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ہماری مساجد صرف اس لئے نہیں بنائی جاتیں کہ ایک خوبصورت عمارت ہم بنادیں اور دوسرے بھی دیکھ کر خوش ہوں کہ دیکھو کتنی اچھی خوبصورت مسجد بنائی ہے اور ہم بھی اس کو دیکھ کر خوش ہور ہے ہوں۔یہ مساجد تو نشان ہیں اس بات کا کہ اللہ والوں کی جماعت جن کے دل اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے رہتے ہیں ایک خدا کی عبادت کرنے کے لئے اللہ کے نام پر اللہ کا گھر تعمیر کرتے ہیں دنیا کا کوئی بھی لالچ، دنیا کی کوئی بھی مصروفیت انہیں خدا کی عبادت سے غافل کرنے والی نہیں ہوتی۔وہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کا صحیح فہم اور ادراک رکھتے ہیں کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: (57) یعنی میں نے جن اور انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری