خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 648
خطبات مسرور جلد سوم 648 خطبہ جمعہ 28 اکتوبر 2005ء دعائیں کرنی چاہئیں اور کس طرح ہم دعاؤں کے فیض حاصل کر سکتے ہیں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے جس کے لئے باب الدعا کھولا گیا گویا اس کے لئے رحمت کے دروازے کھول دیئے گئے۔اور اللہ تعالیٰ سے جو چیزیں مانگی جاتی ہیں ان میں سے سب سے زیادہ محبوب اس کے نزدیک یہ ہے کہ اس سے عافیت طلب کی جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان پر جو ابتلاء آ چکے ہیں یا جن سے خطرہ درپیش ہو ان سے محفوظ رہنے کے لئے سب سے زیادہ مفید بات دعا ہے۔پس اے اللہ کے بندو تمہیں چاہئے کہ تم دعا میں لگے رہو۔صلى الله (سنن الترمذى۔كتاب الدعوات۔باب في دعاء النبي ﷺ) عليه تو اللہ تعالیٰ کی محبوب دعاؤں میں سے سب سے زیادہ محبوب دعا اس سے عافیت طلب کرنا ہے، اس کی رضا حاصل کرنا ہے، اس کی پناہ میں آنا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جائے تو پھر باقی چیزیں تو ایک مومن کو خود بخو دل جاتی ہیں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تکالیف اور مصائب کے وقت اس کی دعاؤں کو قبول کرے تو اسے چاہئے کہ وہ خوشحالی کے اوقات میں کثرت سے دعائیں کرتا رہے۔آئیں گے۔(مشكاة المصابيح كتاب الدعوات الفصل الثاني حديث نمبر (2240) پس یہ دعاؤں کا تعلق مستقل قائم رہے گا تو پھر ہی قبولیت دعا کے غیر معمولی نظارے بھی نظر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” وہ دعا جو معرفت کے بعد اور فضل کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے وہ اور رنگ اور کیفیت رکھتی ہے۔وہ فنا کرنے والی چیز ہے۔وہ گداز کرنے والی آگ ہے۔وہ رحمت کو کھینچنے والی ایک مقناطیسی کشش ہے۔وہ موت ہے پر آخر کو زندہ کرتی ہے۔وہ ایک تند سیل ہے پر آخر کو کشتی بن جاتی ہے۔ہر ایک بگڑی ہوئی بات اس سے بن جاتی ہے۔ہر ایک زہر آخر اس سے تریاق ہو جاتا ہے۔