خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 58 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 58

خطبات مسرور جلد سوم 58 خطبہ جمعہ 4 فروری 2005ء شرک سے پاک اور ایک خدا کے آگے جھکنے والا بن چکا تھا۔خدا نے خود بچپن سے ہی اس دل کو اپنے لئے خالص کر لیا تھا۔اگر کبھی بچپن میں اپنے بڑوں کے کسی دباؤ کے تحت، اس زمانہ کے کسی مشر کا نہ تہوار میں جانا پڑا تو خدا تعالیٰ نے خود ہی اس سے روکنے کے سامان پیدا فرما دیئے ، خود ہی آپ کی حفاظت کے سامان پیدا فرما دیئے۔اس بارہ میں ایک سیرت کی کتاب میں ایک واقعہ بھی درج ہے۔حضرت اُمِّ أَيْمَنُ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ” بوانہ، وہ بت خانہ ہے جہاں قریش حاضری دیتے تھے اور اس کی بہت تعظیم کرتے تھے اس پر قربانیاں چڑھاتے تھے ، وہاں سرمنڈواتے تھے اور ہر سال ایک دن کا رات تک اعتکاف کرتے تھے۔حضرت ابو طالب بھی اپنی قوم کے ساتھ وہاں حاضری دیتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حاضری کے لئے ساتھ جانے کو کہتے (جب آپ بچے تھے ) مگر آپ انکار کر دیتے۔حضرت اُم ایمن کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا ابوطالب اور آپ کی پھوپھیاں ایک دفعہ آپ پر سخت ناراض ہوئیں اور کہنے لگیں آپ ہمارے معبودوں سے اجتناب کرتے ہیں اس کی وجہ سے آپ کے بارے میں ہمیں ڈر رہتا ہے۔اور کہنے لگیں اے محمد ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تو کیا چاہتا ہے؟ تو کیوں اپنی قوم کے ساتھ حاضری کے لئے نہیں جاتا، اور ان کے لئے کیوں اکٹھا نہیں ہوتا۔ان کے بار بار کہنے کے نتیجہ میں آپ ایک بار چلے گئے لیکن جیسا کہ اللہ نے چاہا آپ وہاں سے سخت گھبراہٹ اور خوف کے عالم میں لوٹ آئے۔تو ان عزیزوں رشتہ داروں نے پوچھا کہ کیا ہوا۔آپ نے فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ شیطان مجھے چھوئے۔اس پر انہوں نے کہا کہ اللہ عزوجل تجھے ہرگز شیطانی خیالات میں مبتلا نہیں کرے گا اس حال میں کہ تجھ میں نیک عادات پائی جاتی ہیں۔تو نے کیا دیکھا ہے، خوف کی کیا وجہ ہوئی ہے؟ آپ نے فرمایا جو نہی میں کسی بہت کے قریب جانے لگتا تو ایک سفید رنگ کا طویل القامت شخص میرے لئے متماثل ہوتا اور کہتا کہ اے محمد! پیچھے رہ ، اس کو مت چھو۔ام ایمن کہتی ہیں پھر انہوں نے بھی کبھی حاضری کے لئے نہیں کہا۔یہاں تک کہ آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا گیا۔(السيرة الحلبية باب ما حفظه الله تعالى به في صغره من امر الجاهلية) تو یہ تھے وہ انتظامات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اس پاک اور خالص دل کی حفاظت کرتا تھا۔