خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 585
خطبات مسرور جلد سوم 585 خطبہ جمعہ 23 ستمبر 2005ء ملنے کے بعد ابھی آپ لوگ اسے تعمیر نہ کر سکے تو پھر زمین بھی ہاتھ سے نکل جائے گی اور جو ر تم اب تک اس پہ خرچ ہوئی ہے وہ بھی ضائع ہو جائے گی اور جماعت کے وقار کو بھی دھکہ لگے گا۔پس آج ایک ہو کر اس گھر کی تعمیر کریں، اس تعمیر سے جہاں آپ جماعت کے وقار کو روشن کر رہے ہوں گے وہاں اپنے لئے خدا کی رضا حاصل کرتے ہوئے جنت میں گھر بنا رہے ہوں گے۔اور یاد رکھیں کہ ہر بڑے کام کے لئے بڑی قربانی دینی پڑتی ہے۔دعاؤں کے ساتھ اس قربانی کے لئے تیار ہوں گے تو یقینا اللہ تعالیٰ بھی مدد فرمائے گا۔یا درکھیں اگر یہ موقع آپ نے ضائع کر دیا تو آج نہیں تو کل جماعت احمدیہ کی کئی مساجد اس ملک میں بن جائیں گی۔لیکن احمدیت کی آئندہ نسلیں ، اس جگہ سے گزرتے ہوئے آپ کو اس طرح یاد کریں گی کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں جماعت کو مسجد بنانے کا موقع میسر آیا لیکن اس وقت کے لوگوں نے اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہ کیا اور یہ جگہ ہاتھ سے نکل گئی۔اللہ نہ کرے کہ کبھی وہ دن آئے جب آپ کو تاریخ اس طرح یاد کرے۔اللہ کرے کہ آپ ہمیشہ ان لوگوں میں شمار ہوں جن کے بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ وہ دل سے فدا ہیں۔ہمیشہ آپ فدائیت کے نمونے دکھانے والے ہوں۔پس نو جوان بھی توجہ کریں، بوڑھے بھی توجہ کریں، عورتیں بھی توجہ کریں، بچے بھی اپنے والدین کے پیچھے پڑیں کہ جلد سے جلد اس مسجد کی تعمیر کریں۔آپ کے اخلاص و وفا کے بارے میں میں نے پہلے بھی کہا کہ مجھے کوئی شبہ نہیں ہے صرف توجہ کی ضرورت ہے۔گزشتہ سال جب میں نے جلسہ برطانیہ پر وصیت کی تحریک کی تھی تو اس جماعت میں صرف 67 موصی تھے اور ایک سال میں تقریباً ڈ گنے مزید اس میں شامل ہو گئے اور 191 کی تعداد ہوگئی۔کل چندہ دہند آپ کے تقریباً 500 ہیں ہو سکتا ہے جلدی آپ نصف تک بھی پہنچ جائیں۔یہ بات یقیناً اس بات کی دلیل ہے کہ آپ لوگ مالی قربانیاں کرنے میں پیچھے رہنے والے نہیں ہیں۔اخلاص و وفا میں پیچھے رہنے والے نہیں ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ توجہ کی ضرورت ہے۔اگر سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور ایک ہو کر کام کریں گے تو یقینا اس میں برکت پڑے گی۔