خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 581
خطبات مسرور جلد سوم 581 خطبہ جمعہ 23 ستمبر 2005ء رکھتے ہیں۔دوسرے ایسے اور ایسے ہیں۔میں نہیں جانتا کہ آپ اس افتراء کا خدا تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے۔میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی زندگی کی یہ بات کر رہے ہیں۔اور آج اللہ کے فضل سے یہ تعداد کہیں کی کہیں پہنچی ہوئی ہے ) اور اعمال صالحہ بجالاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں۔میں اپنے ہزار ہا بیعت کنندوں میں اس قدر تبدیلی دیکھتا ہوں کہ موسیٰ نبی کے پیروان سے جو ان کی زندگی میں ان پر ایمان لائے تھے ہزار درجہ ان کو بہتر خیال کرتا ہوں اور ان کے چہرہ پر صحابہ کے اعتقا داور صلاحیت کا نور پاتا ہوں۔ہاں شاذ و نادر کے طور پر اگر کوئی اپنے فطرتی نقص اور صلاحیت میں کم رہا ہوتو وہ شاذ و نادر میں داخل ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے یہ بھی ایک معجزہ ہے۔ہزار ہا آدمی دل سے فدا ہیں۔اگر آج ان کو کہا جائے کہ اپنے تمام اموال سے دستبردار ہو جاؤ تو وہ دستبردار ہو جانے کے لئے مستعد ہیں۔پھر بھی میں ہمیشہ ان کو اور ترقیات کے لئے ترغیب دیتا ہوں اور ان کی نیکیاں ان کو نہیں سناتا مگر دل میں خوش ہوتا ہوں۔(سیرت المہدی حصہ اوّل صفحه 165 ایڈیشن دوم مطبوعه 1935ء) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت میں جو پاک تبدیلی پیدا کی اس کی نظیر نہیں ملتی ، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اور ہر زمانے میں قربانی کرنے والے پیدا ہوتے رہے۔ان میں امیر بھی ہیں اور غریب بھی ہیں۔خلافت ثانیہ میں ایک دفعہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مالی تحریک فرمائی تو ہر طبقہ نے لبیک کہا۔ایک بڑھیا جس کا گزارا بھی مشکل سے ہوتا تھا۔شاید امداد سے ہوتا تھا یا چند ایک مرغیاں رکھی ہوئی تھیں، ان کے انڈے بیچتی تھی۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے پاس آئی اور عرض کی کہ میری جو یہ ایک دو مرغیاں ہیں ان کے انڈے بیچ کر یہ تھوڑے سے پیسے حضور کی خدمت میں اس تحریک کے لئے لائی ہوں۔دیکھیں اس عورت کا جذ بہ جواس نے خلیفہ وقت کی طرف سے کی گئی تحریک میں پیچھے رہنا گوارا نہیں کیا۔یقینا اس کے اس جذبے کی وجہ سے اس کے جو چند پیسے یا جو چند انڈے تھے خدا تعالیٰ کے نزدیک کروڑوں