خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 545 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 545

خطبات مسرور جلد سوم 545 خطبہ جمعہ 9 ستمبر 2005ء توفیق عطا فرمائی۔پس ان بزرگوں نے ان نیکیوں کا صلہ پایا جو انہوں نے پہلے کبھی کی تھیں۔اور یقیناً انہوں نے یہ دعائیں بھی کی ہوں گی کہ ان کی اولادیں بھی اس نعمت سے فیضیاب ہوتی رہیں جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں آپ کے ماننے والوں کی معاشی حالت اتنی اچھی نہیں تھی بلکہ اکثریت معاشی لحاظ سے ، مالی لحاظ سے کمزور طبقے سے آئے ہوؤں کی تھی۔اور انبیاء کو عموماً معاشی لحاظ سے کمز ور لوگ ہی مانتے ہیں۔کیونکہ عموماً ان میں خوف خدا زیادہ ہوتا ہے۔بہر حال بات ہورہی تھی ان پہلے ایمان لانے والوں کی جن کی آپ میں سے اکثریت اولادیں ہیں۔آج ان مغربی ملکوں میں آ کر آپ کے معاشی حالات پہلے سے بہت بہتر ہو گئے ہیں۔لیکن ان معاشی حالات کی بہتری یا آپ کے کاروباروں یا کام میں زیادتی آپ کو ان نیکیوں سے دور نہ لے جائے جن کی وجہ سے آپ کے بزرگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کی توفیق ملی۔وہ بزرگ تو نیکیوں پر قدم مارتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ، نیک اعمال بجالاتے ہوئے اور دین کو دنیا پر مقدم کرتے ہوئے اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔لیکن اب آگے ہمارا ، ان کی اولادوں کا ، فرض بنتا ہے کہ ان کی نیکیوں کو قائم کرنے کی ہر دم کوشش کریں، ہر وقت کوشش کریں۔ان بزرگوں کی قربانیوں کو ہمیشہ سامنے رکھیں۔آج ہمارے معاشی حالات کی بہتری اور بعض سہولتیں اور آسائشیں ہمیں اللہ تعالیٰ سے غافل نہ کر دیں۔اور جب انسان اللہ تعالیٰ سے غافل ہو جائے تو پھر شیطان کے قبضے میں چلا جاتا ہے، بہت سی برائیوں میں ملوث ہو جاتا ہے اور ہوش اس وقت آتا ہے جب انتہائی ضلالت اور گمراہی کے گڑھے میں پڑے ہوتے ہیں۔اولاد برباد ہو رہی ہوتی ہے۔اس وقت خیال آتا ہے کہ ہم سے بڑی غلطی ہوئی۔ہم دنیا داری میں پڑکر دین کو بھول گئے ، اپنے خدا کو بھول گئے۔اس کے حضور جھکنے کی بجائے ہم نے اپنے کاموں ، اپنے کاروباروں ، اپنی نوکریوں کو زیادہ اہمیت دی۔لیکن جب یہ حالت ہو جائے تو پھر ایسی حالت میں گفِ افسوس ملنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ، پھر