خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 546 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 546

خطبات مسرور جلد سوم 546 خطبہ جمعہ 9 ستمبر 2005ء افسوس کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے اسی لئے ہمیں قرآن کریم میں بے شمار جگہ اپنی ایمانی حالت کو درست کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور اس کے لئے مختلف راستے دکھائے ہیں کہ کس کس طرح تم اپنی ایمانی حالت کو درست رکھ سکتے ہو۔اور نتیجہ آگ کے عذاب سے بچ سکتے ہو۔جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس میں دو باتوں کا ذکر ہے۔ایمان لانے والوں کو فرمایا کہ: ایمان لانے کے بعد تمہاری یہ حالت نہ ہو جائے کہ پھر تم آگ کے گڑھے میں چلے جاؤ۔اور اس سے بچنے کے لئے فرمایا کہ: جو تجارت تمہیں آگ کے عذاب سے بچانے اور اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی ہوگی اس کے بارے میں میں تمہیں بتا تا ہوں کہ وہ کیا ہے۔وہ تجارت ہے جان اور مال اللہ کی راہ میں قربان کرنا، جان اور مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔اس زمانے میں جب اللہ تعالیٰ نے یہ خوشخبری بھی دی کہ تم مسیح و مہدی کو مان کر ، اس پر ایمان لا کر پہلوں سے مل سکتے ہو۔صحابہ سے مل سکتے ہو۔تو صحابہ کے مال و جان کی قربانی کے معیار بہت بلند تھے ان پر بھی تو قدم مارنا ہوگا۔اس زمانے میں جس صورت میں ہمیں پہلوں سے ملنے کی خوشخبری دی ہے وہاں ایسی صورت میں کھیل کو د اور تجارت کا ذکر کر کے نصیحت بھی کی ہے کہ اللہ کے پاس جو فوائد ہیں، ایمانی حالت میں ترقی کر کے جو فوائد تمہیں پہنچیں گے وہ کھیل کو د اور دنیاوی کاموں سے بہت بڑے ہیں۔اس زمانے میں کھیل کود کی بھی انتہا ہوئی ہوئی ہے۔اگر کھیل کے میدان میں نہ بھی جائیں تو گھر بیٹھے ہی کمپیوٹر کے اوپر ، ٹیلی ویژن کے اوپر، یا اور اس طرح کی چیزیں ہیں، ایسی دلچپسی کی چیزیں ہیں جو اسی زمرے میں آتی ہیں، جن میں آدمی ایک دفعہ لگ جائے تو اٹھنے کو دل ہی نہیں چاہتا۔بعض کمپیوٹر والوں کو تو ایک طرح کا نشہ ہے۔جب آدمی اس پر بیٹھا ہوتو بھول جاتا ہے کہ نماز کا وقت بھی ہو گیا ہے یا نہیں ، جمعہ پر بھی جانا ہے کہ نہیں۔پھر تجارتیں ہیں، کام ہیں، نوکریاں ہیں جیسا کہ میں نے کہا، یہ چیزیں بھی نمازوں سے، جمعوں سے، عبادتوں سے، غافل کرنے والی ہیں اور آہستہ آہستہ جب انسان ان میں بہت زیادہ انوالو (Involve) ہو جاتا ہے تو پھر ایمان بالکل ہی ختم ہو جاتا ہے۔