خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 515 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 515

خطبات مسرور جلد سوم 515 خطبه جمعه 26 اگست 2005 ء کرنے کیلیے میں مسیح و مہدی کو مبعوث کروں گا تا کہ پھر وہ احکامات لاگو ہوں ، تا کہ پھر اللہ کی رہتی کی قدر کا احساس پیدا ہو، تاکہ پھر اس مسیح و مہدی کو ماننے والے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ سکیں۔اس آیت کے آخر میں جو یہ فرمایا ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تا کہ شاید تم ہدایت پا جاؤ۔یہ مسلمانوں کو پھر ایک حکم ہے، ایک وارننگ ہے کہ اللہ کے احکامات پر عمل کرو، پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے بعد ضد نہ کرو اور سیح و مہدی کو مان لو۔جو تمہارے ساتھ ہو چکا اس سے سبق حاصل کرو۔اپنی تاریخ سے سبق حاصل کرو۔اور اب تمہاری بقا اسی میں ہے کہ اس رسی کو مضبوطی سے پکڑو۔لیکن اس میں ہم احمدیوں کے لیے بھی نصیحت ہے بلکہ اوّل مخاطب اس زمانے میں ہم احمدی ہیں کہ ایک انقلاب آج سے چودہ سو سال پہلے آیا تھا اور دشمن کو بھائی بھائی بنا گیا تھا اور ایک انقلاب اس زمانے میں اس نبی امی کی قوت قدسی کی وجہ سے، اس کے عاشق صادق کے ذریعہ سے برپا ہوا ہے جس نے تمہیں پھر سے اکٹھا کیا ہے۔اس لئے اب پہلی باتیں جو تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں ، یہ تاریخ کا حصہ بننے کے لیے تھیں ان پر غور کرو اور اس مسیح و مہدی کو ماننے کے بعد ہمیشہ اس تعلیم پر عمل کرو جو تمہیں دی گئی ہے۔ورنہ جو عمل نہیں کرے گا وہ اپنے آپ کو آگ کے گڑھے میں گرانے والا ہوگا۔پہلے زمانے کے لئے آنحضرت عبید اللہ نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ خلافت راشدہ کا زمانہ تھوڑا ہوگا اور اسی کے مطابق ہوا۔لیکن اس زمانے کے لئے آنحضرت علی اللہ نے پیشگوئی فرمائی ہے کہ میرے غلام صادق کے آنے کے بعد جو خلافت قائم ہوگی وہ علی منہاج نبوت ہوگی اور اس کا دور قیامت تک چلنے والا دور ہوگا۔خلافت کے قیامت تک قائم رہنے کے بارے میں بعض لوگ اس کی اپنی وضاحت اور تشریح بھی کرتے ہیں۔ہم میں سے بھی بعض لوگ بعض دفعہ باتیں کرتے رہتے ہیں۔تو آج جو یہ باتیں کرتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی رہتی کو کاٹنے کی باتیں کرتا ہے کہ قیامت تک اس نے رہنا ہے یا نہیں یا اس کی کیا تشریح ہے، کیا نہیں ہے۔اگر کوئی دلیل ان کے پاس اس چیز کی ہے بھی تو حضرت