خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 36 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 36

خطبات مسرور جلد سوم 36 خطبہ جمعہ 14 جنوری 2005ء کے لئے یا تھوڑے سے مفاد کے لئے ہم اللہ کے رسول کی سچی پیشگوئی اور اللہ کے فضلوں کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کریں۔یہ نہیں ہوسکتا۔احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ اور اس کے رسول کے لئے بڑی غیرت رکھتا ہے۔ہر احمدی کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کے نام کی بڑی غیرت ہے۔اگر حکومت احمدیوں کا حق سمجھ کر ہمیں فائدہ دے سکتی ہے تو ہمیں قبول ہے، ورنہ جماعت احمدیہ میں ہر شخص قربانی کرنا جانتا ہے۔وہ اپنا پیٹ کاٹ کر بھی مساجد کی تعمیر کے لئے پلاٹ خرید سکتا ہے، رقم مہیا کر سکتا ہے، یا جماعت کے دوسرے اخراجات برداشت کر سکتا ہے۔بہر حال ان کا جماعت سے بڑا تعلق ہے۔بعض لوگوں سے بڑی ذاتی واقفیت ہے۔کہنے لگے کہ میں تو اس بات کو سمجھتا ہوں۔لیکن قانون ایسا ہے کہ تمہارا حق بھی دوسری مسلمان تنظیمیں لے رہی ہیں۔آپس میں چاہے یہ تنظیمیں لڑتی رہیں لیکن جب فائدہ اٹھانا ہو، مفاد لینا ہو، کچھ مالی فائدہ نظر آتا ہو، یا حکومت سے کسی قسم کی مدد لینی ہو تو یہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ان کو تو میں نے یہی جواب دیا تھا پھر لینے دیں ہمیں تو اس وجہ سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ہم اس سہولت کے لئے اپنا ضمیر اور اپنا ایمان نہیں بیچ سکتے۔ان کا بڑا گہرا مطالعہ تھا اور ان باتوں کا وہ پہلے بھی علم رکھتے تھے شاید براہ راست میرا موقف سننا چاہتے تھے اس کے لئے شاید انہوں نے یہ بات چھیڑی ہو گی۔تو بہر حال اس چیز نے بھی میرے دل میں اور بھی زیادہ شدت سے یہ احساس پیدا کیا کہ اب ہمیں کسی بڑے شہر میں جلد ہی ایک اور مسجد بنانی چاہئے۔مجھے امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ ہماری تو فیقوں کو بھی بڑھائے گا۔اور جلد ہی ہمیں سپین میں ایک اور مسجد عطا فرمائے گا۔پس آپ دعاؤں سے کام لیتے ہوئے اس بات کا عزم کر لیں کہ آپ نے یہ کام کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ پر توکل کریں۔انشاء اللہ ضرور مدد کرے گا۔اللہ کرے،اللہ سب کو توفیق دے۔谢谢谢