خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 30
خطبات مسرور جلد سوم 30 خطبہ جمعہ 14 جنوری 2005ء تا کہ تعارف اور انس بڑھ کر وحدت جمہوری پیدا ہو۔پھر اسی طرح تمام دنیا کے اجتماع کے لئے ایک دن عمر بھر میں مقرر کر دیا کہ مکہ کے میدان میں سب جمع ہوں۔غرضیکہ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ آپس میں الفت اور انس ترقی پکڑے۔افسوس کہ ہمارے مخالفوں کو اس بات کا علم نہیں کہ اسلام کا فلسفہ کیسا پکا ہے۔دنیوی حکام کی طرف سے جو احکام پیش ہوتے ہیں ان میں تو انسان ہمیشہ کے لئے ڈھیلا ہوسکتا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کے احکام میں ڈھیلا پن اور اس سے بکلی روگردانی کبھی ممکن ہی نہیں۔کون سا ایسا مسلمان ہے جو کم از کم عیدین کی بھی نماز نہ ادا کرتا ہو۔پس ان تمام اجتماعوں کا یہ فائدہ ہے کہ ایک کے انوار دوسرے میں اثر کر کے اسے قوت بخشیں“۔(ملفوظات جلد چہارم صفحه 101 جدید ایڈیشن - اخبار البدر 8 ستمبر 1904ء صفحه 3-8) تو آپ نے نمازوں کی ادائیگی سے لے کر جمعہ، جمعے کے بعد عیدین، پھر حج یہ ایک وحدت کا نشان بتایا ہے۔اور سب سے زیادہ وحدت کا نمونہ اگر آج دکھانا ہے تو احمدی نے دکھانا ہے۔جو غیروں کے اعتراض ہیں ان کے منہ بند کرنے کے لئے خود اپنی عبادتوں کو زندہ کرنا ہے، نمازوں کے لئے اکٹھے ہونا ہے۔جمعوں کے لئے اکٹھے ہونا ہے، عید پر ا کٹھے ہونا ہے۔پس اس طرف ہر احمدی خاص طور پر توجہ دے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہو کر اپنے اندر تبدیلی کا جو عہد کیا ہے اس کو پورا کرنے والا بنتا ہے، حقیقی معنوں میں مومن کہلانے والا بننا ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہ مومن ہیں نہ ہدایت پانے والے ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ تو مسجد کو آباد کرنے والوں کو ایمان لانے والوں میں شمار کرتا ہے۔فرماتا ہے: ﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلوةَ وَاتَى الزَّكوةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَى أَوْلَئِكَ أَنْ يَكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِينَ ﴾ (التوبة: 18) کہ اللہ کی مساجد تو وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور یوم آخرت پر اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے اور اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ کھائے۔پس قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کئے جائیں۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ایمان کے تقاضے پورے کرتے ہوئے مسجد میں آباد کرنے کی توفیق