خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 344
خطبات مسرور جلد سوم 344 خطبہ جمعہ 10 / جون 2005ء سلام کہنا کیونکہ وہ مسیح موعود و مہدی موعود اس اندھیرے کے زمانے میں مبعوث ہو گا جب اسلام کی تعلیم کو یکسر بھلایا جا چکا ہوگا اور اسلام کا فقط نام باقی ہوگا اور یہ مرد جری اس تعلیم کو حقیقی اسلامی تعلیم کو دوبارہ دنیا میں رائج کرے گا، قائم کرے گا۔پس ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم نے اس جری اللہ کو مانا۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ اس جری اللہ نے دین کو دوبارہ دنیا میں قائم کرنا تھا۔اگر ہم ماننے کے بعد اپنے اندر تبدیلیاں پیدا نہیں کریں گے، اپنی عبادتوں اور اپنے اعمال کو اس معیار تک نہیں لائیں گے جس پر پہلوں نے اپنے معیار قائم کئے اس وقت تک ہمارا ایمان بے کار ہے۔ہم اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہیں کہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مرد میدان کو ابراہیم کے نام سے بھی پکارا ہے۔یہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ ابراہیم ثانی اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں اللہ تعالیٰ کے قریب لانے اور ہمارا تزکیہ کرنے ، ہمیں پاک کرنے اور روحانی خزائن تقسیم کرنے کا باعث بنے گا۔بشرطیکہ ہم اپنے آپ کو اس کے لئے تیار کریں۔قرآن کریم میں ان سے پہلی آیتوں میں جن کی میں نے تلاوت کی ہے مقام ابراہیم کو نمونہ کے طور پر اختیار کرنے کا حکم ہے۔اس مقام کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں وضاحت کرنے سے پہلے آپ کے الفاظ میں آپ کے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ایک تعلق کی وضاحت کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ آیت وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيْمَ مُصَلَّی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے۔تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہو گا۔اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہو گا۔(اربعین نمبر - روحانی خزائن جلد 17 صفحه 421) پس دیکھیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ آپ خوش قسمت ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا۔آپ خوش قسمت ہیں کہ اس آخری زمانے کے ابراہیم کو مان کر آپ نجات یافتہ فرقہ بن گئے ہیں۔لیکن یا درکھیں کہ ایمان مکمل طور پر اس تعلیم پر عمل کرنے کا تقاضا کرتا ہے جو نبی لے کر آتے ہیں۔تو نجات صرف منہ کے کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے نہیں مل جاتی۔