خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 345
خطبات مسرور جلد سوم 345 خطبہ جمعہ 10 / جون 2005ء بلکہ اللہ تعالیٰ کے بھی کچھ قانون ہیں۔ان کے مطابق ایمان لانے سے نجات ملے گی۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو یہ ایمان حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ ایمان کا معیار کس طرح حاصل کرنا ہے اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:۔وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى ) اور ابراہیم کے مقام سے نماز کی جگہ پکڑو۔اس جگہ مقام ابراہیم سے اخلاق مرضیہ و معامله باللہ مراد ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق چلنا اور اللہ تعالیٰ کے مطابق ہر معاملہ کرنا۔پھر فرمایا: ” یعنی محبت الہیہ اور تفویض اور رضا اور وفا۔یہی حقیقی مقام ابراہیم کا ہے جو امت محمدیہ کو بطور تبعیت و وراثت عطا ہوتا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت ہو اور خود کو بالکل اللہ تعالیٰ کے حکموں کے ماتحت کر دینا ہو، اس کی رضا ہو، اسی سے وفا ہو اس کے حکموں کی وفاداری سے بجا آوری ہو ، یہ جب ہو گا تو فرمایا کہ یہی ہے جو امت محمدیہ کو اس پیروی کی وجہ سے مقام ابراہیم کی طرف لے جائے گا۔بطور ر تبعیت و وراثت عطا ہوتا ہے۔اور جو شخص قلب ابراہیم پر مخلوق ہے اس کی اتباع بھی اسی میں ہے۔(براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔روحانی خزائن جلد نمبر 1 صفحه 608 بقيه حاشیه در حاشیه نمبر 3) تو یہ ہے وہ مقام جس کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں تعلیم دی اور یہ ہے وہ مقام جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہر احمدی کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ہر احمدی کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت قائم ہو اور ایسی محبت قائم ہو جائے جس کے مقابلے میں ہر دوسری محبت کمتر نظر آئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی محبت میں شرک کے خلاف ایک عظیم جہاد کیا تھا اور مخالفین نے اس وجہ سے ان کو آگ میں بھی ڈالا تھا۔لیکن خدا تعالیٰ اپنے پیاروں کو اس طرح ضائع نہیں کرتا۔چنانچہ وہ آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکی۔ہمیں بھی اپنا جائزہ لینا ہو گا کہ ایک طرف تو ہم اپنے آپ کو ابراہیم کی برکات کا حصہ دار بنانا